غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک ہوش ربا تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ "آد کان” نامی ایک انتہا پسند صہیونی آبادکار تنظیم غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو ایشیائی اور افریقی ممالک میں منتقل کرنے کی منظم مہم کے پیچھے سرگرم ہے۔ اس اشتعال انگیز اقدام نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ قابض اسرائیل غزہ میں پیدا کردہ بدترین انسانی بحران کو فلسطینیوں کی نسل کشی اور انہیں اپنے وطن سے بے دخل کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
تحقیقات کے مطابق مئی سنہ 2025ء سے اب تک تقریباً 380 فلسطینیوں کو فضائی راستوں کے ذریعے انڈونیشیا، ملائیشیا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک منتقل کیا گیا ہے۔ یہ نقل مکانی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب غزہ کے باسی قابض اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ، ہمہ گیر تباہی اور دلدوز سفاکیت کے نتیجے میں بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
تحقیقاتی ایجنسی کو ملنے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس پوری کارروائی کو "المجد” نامی ایک فرضی کمپنی کے ذریعے چلایا جا رہا ہے تاکہ اس گھناؤنے منصوبے کے پیچھے چھپے صہیونی آبادکار تنظیم کے براہ راست کردار کو خفیہ رکھا جا سکے۔ دستاویزات میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس نام نہاد تنظیم میں قابض اسرائیل کے سابق فوجی اور افسران شامل ہیں جو اس جبری بے دخلی کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان پروازوں میں ایک نشست کے عوض مجبور فلسطینیوں سے دو ہزار ڈالر تک کی بھاری رقوم وصول کی گئی۔
امریکی نژاد اسرائیلی بزنس مین موتی کاہانا جو پہلے اس عمل کا حصہ تھے اور بعد میں علیحدہ ہو گئے نے بتایا کہ منتظمین نے مختلف فرضی کمپنیوں کا سہارا لے کر قابض اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلق کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ گروہ مسافروں سے رابطے کے لیے عربی بولنے والی ٹیم کا استعمال کرتا ہے تاکہ براہ راست صہیونی تعلق سامنے نہ آ سکے۔
دستاویزات کے مطابق اس کام کے لیے نجی سکیورٹی کمپنی کا لبادہ اوڑھ کر قابض اسرائیل کے افسران اور اہلکار خفیہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
نومبر سنہ 2025ء میں یہ معاملہ اس وقت سنگین صورتحال اختیار کر گیا جب 150 فلسطینیوں کو لے کر ایک طیارہ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے ہوائی اڈے پر پہنچا۔ ان مسافروں کے پاس واضح سفری دستاویزات موجود نہیں تھیں جس کی بنا پر حکام نے انہیں کئی گھنٹوں تک طیارے میں ہی روکا۔
جنوبی افریقہ کی حکومت نے اس واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ پوری مہم غزہ کی پٹی کو اس کے اصل باشندوں سے خالی کرانے کی کسی بڑی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب غزہ چھوڑنے والے بعض فلسطینیوں نے بتایا کہ وہ اس گھناؤنے منصوبے کے پیچھے موجود قوتوں سے بے خبر تھے اور جنگ کی سفاکیت اور تباہی سے بچنے کے لیے کسی بھی طرح وہاں سے نکلنا چاہتے تھے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ جنگ اور محاصرے کی سنگین صورتحال میں ہونے والی اس نقل مکانی کو کسی صورت "رضاکارانہ ہجرت” قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک منظم سازش کے تحت کی جانے والی نسل کشی اور بے دخلی ہے۔
قابض اسرائیل کی جانب سے اس معاملے پر کسی واضح سرکاری موقف کے بغیر یہ تاحال غیر یقینی ہے کہ ان پروازوں کے ذریعے نکالے گئے فلسطینی کیا مستقبل میں کبھی اپنی سرزمین پر واپس آ سکیں گے۔