غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں وزارت قومی معیشت نے اشیائے خوردونوش اور زرعی مصنوعات کے شدید بحران کے حوالے سے ایک اہم وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قابض اسرائیل کی جانب سے امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کے داخلے پر پابندی کے باعث بنیادی اشیا کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
وزارت معیشت نے انکشاف کیا کہ اس انسانی المیے اور معاشی بحران کی بنیادی وجہ قابض اسرائیل کی وہ مجرمانہ پالیسی ہے جس کے تحت غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والے تجارتی اور امدادی ٹرکوں کی تعداد کو جان بوجھ کر کم کر دیا گیا ہے۔ پہلے روزانہ تقریباً 350 ٹرک داخل ہوتے تھے جن کی تعداد اب گھٹا کر صرف 80 کر دی گئی ہے۔
وزارت قومی معیشت نے اعلان کیا ہے کہ صارفین کے حقوق کے تحفظ اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے انتہائی سخت ہنگامی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔ وزارت نے ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کے بعد ٹرکوں کی تعداد میں اس ظالمانہ کمی اور غذائی قلت کا ذمہ دار براہِ راست قابض اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے خلاف جنگ شروع ہوتے ہی قابض اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں سامان کی ترسیل پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں جس نے مظلوم شہریوں کی تکالیف کو کئی گنا بڑھا دیا ہے اور مارکیٹ میں اشیا کا کال پڑ گیا ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ اگرچہ عام حالات میں وہ آزاد معیشت اور مقابلے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے لیکن موجودہ غیر معمولی اور انتہائی ہنگامی صورتحال میں وہ قیمتوں کی نگرانی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر مجبور ہے تاکہ اشیا کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو صیہونی دشمن کے ساتھ ساتھ منافع خوروں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔
رپورٹ کے مطابق کچھ مخصوص طبقات اور تاجر اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ان حکومتی اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو انسانیت سوز حالات میں بھی قیمتیں بڑھا کر ناجائز منافع کمانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی وجہ سے اشیا کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور فلاحی اداروں کو بھی راشن کی فراہمی کے لیے بڑے پیمانے پر سامان کی ضرورت ہے۔
وزارت نے گذشتہ چند روز کے دوران دیگر وزارتوں اور تجارتی ایوانوں کے تعاون سے اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے تاکہ ان تاجروں کے لالچ کو لگام دی جا سکے جو اس نسل کشی کے ماحول میں بھی اپنی جیبیں بھرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
بیان کے آخر میں وزارت معیشت نے دو ٹوک الفاظ میں انتباہ جاری کیا کہ کسی بھی ذخیرہ اندوزی اور عوام کا استحصال کرنے والے شخص کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور عوامی تحفظ کے لیے یہ سخت گیر اقدامات جاری رہیں گے۔