غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے ترجمان حازم قاسم نے غاصب صہیونی دشمن کی حالیہ درندگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجرم قابض اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں ایک اور ہولناک قتل عام کر کے انسانیت کو شرما دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سفاک دشمن نے ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک حاملہ خاتون سمیت چار بے گناہ شہری جام شہادت نوش کر گئے۔ حازم قاسم نے اس بزدلانہ حملے کو غزہ کی پٹی میں طے شدہ جنگ بندی کے معاہدے کی صریح اور کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
حازم قاسم نے پریس کو جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ غزہ میں خون کی یہ ہولی ایک ایسے وقت میں کھیلی گئی جب طوباس کے علاقے طمون میں بھی ایک فلسطینی خاندان کے چار افراد بشمول والدین اور ان کے دو لخت جگروں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یکے بعد دیگرے ہونے والے یہ خونی واقعات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ بنجمن نیتن یاھو کی جنونی حکومت فلسطینیوں کی مکمل نسل کشی کے ایجنڈے پر کاربند ہے اور وہ فلسطینیوں کو ان کے وجود سمیت مٹانے کے درپے ہے۔
حماس کے ترجمان نے قابض اسرائیل کی اس منظم سفاکیت کے خلاف سخت ردعمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام فلسطینی قوتیں اپنے اختلافات بھلا کر متحد ہو جائیں۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ دشمن کی نسل کشی کی اس وحشیانہ پالیسی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ٹھوس اور حقیقی دفاعی حکمت عملی وضع کی جائے اور ایک ایسا مشترکہ قومی پروگرام ترتیب دیا جائے جس کی بنیاد صرف اور صرف غاصب دشمن کے خلاف بھرپور مزاحمت اور فلسطینی قوم کی استقامت کو مضبوط بنانے پر ہو۔