غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے اسپین کی حکومت کی جانب سے قابض اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلانے اور سفارتی نمائندگی کم کرنے کے فیصلے کا پُرجوش خیر مقدم کیا ہے۔
حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام غزہ کی پٹی میں جاری انسانیت سوز مظالم کے خلاف سپین کی حکومت اور وہاں کے عوام کے ان قابلِ فخر اور جرات مندانہ موقف کا تسلسل ہے جو وہ مسلسل اپنائے ہوئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری صیہونی نسل کشی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے خلاف واضح اعلانِ بیزاری ہے۔ حماس نے اس اقدام کو ایک اعلیٰ درجے کا انسانی موقف قرار دیا ہے جو انسانی اقدار کے ساتھ حقیقی وابستگی کا عکاس ہے۔
حماس نے اسپین کے اس شجاعانہ موقف کو سراہتے ہوئے دنیا بھر کے دیگر ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قابض اسرائیل کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات منقطع کرنے جیسے ٹھوس اقدامات کریں۔
حماس نے تل ابیب پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا تاکہ فلسطینیوں کے خلاف جاری سنگین جرائم اور مسلسل جارحیت کو روکا جا سکے جس کی لپیٹ میں خطے کے دیگر عوام بھی آ رہے ہیں۔