نیویارک – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) سنہ 1967ء سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مامور اقوام متحدہ کے خصوصی مبصر نے انسانی حقوق کونسل کے 61 ویں اجلاس میں ایک مفصل رپورٹ پیش کی ہے جس میں یہ ہولناک نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے فلسطینیوں کے خلاف قابض اسرائیل کے اقدامات اتفاقیہ برائے انسدادِ جرمِ نسل کشی کے تحت نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔
تعذيب اور نسل کشی کے عنوان سے تیار کی گئی اس رپورٹ میں حراستی اور غیر حراستی پالیسیوں کے تناظر میں تشدد کے منظم استعمال کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ وحشیانہ اقدامات اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں جس میں بڑے پیمانے پر قتل عام، جبری نقل مکانی، ذرائع معاش کی تباہی اور بنیادی ضروريات سے محرومی شامل ہے، جو فلسطینیوں پر طویل مدتی جسمانی اور نفسیاتی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ قابض اسرائیل کا حراستی نظام تذلیل، جبر اور منظم دہشت گردی کے ایک ایسے نیٹ ورک میں بدل چکا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی آزادی، وقار اور شناخت سے محروم کرنا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ سفاکیت محض انفرادی تجاوزات نہیں بلکہ ایک ایسا ادارہ جاتی رویہ ہے جسے مکمل سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ زندگی کے لیے ضروری حالات کی جان بوجھ کر تباہی، بشمول گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا اور آبادی کو طبی امداد و خوراک سے محروم کرنا، شدید جسمانی اور ذہنی نقصان پہنچانے کے مترادف ہے جو نسل کشی کے معاہدے کے آرٹیکل 2 کے دائرے میں آتا ہے۔
رپورٹ میں قابض اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حراستی مراکز اور ان سے باہر تشدد اور بدسلوکی کے تمام اقدامات کو فوری طور پر بند کرے۔ علاوہ ازیں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نسلی پرستی کے نظام کو جڑ سے اکھاڑا جائے، مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی موجودگی کا خاتمہ کیا جائے اور مجرموں کا احتساب یقینی بناتے ہوئے متاثرین کو ہرجانہ ادا کیا جائے۔
خصوصی مبصر نے سفارش کی ہے کہ ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی، اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن اور آزاد ماہرین کو حراستی مراکز تک رسائی دی جائے تاکہ وہاں ہونے والی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جا سکیں۔ رپورٹ میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان سنگین جرائم میں کسی بھی قسم کی ملی بھگت سے باز رہیں اور مجرموں کے احتساب کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
اسی تناظر میں رپورٹ میں عالمی فوجداری عدالت کے استغاثہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نسل کشی، تشدد اور بدسلوکی کے جرائم کی تحقیقات کرے اور ایتمار بن گویر اور بزلئیل سموٹریچ سمیت متعدد عسکری و سکیورٹی حکام کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر غور کرے۔