یروشلم – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی جیل خانہ جات کی انتظامیہ نے فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا ہے، یہ پیش رفت کنیسٹ میں اس قانون کے مسودے کی پہلی خواندگی میں منظوری کے بعد سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی چینل 13 کے مطابق اس منصوبے میں سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے ایک مخصوص جگہ کا قیام، خصوصی آپریشنل طریقہ کار کی تیاری اور ان قیدیوں کی تربیت شامل ہے جو اس عمل کو انجام دیں گے، اس کے علاوہ مشرقی ایشیا کے ان ممالک کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا جائے گا جو اسی طرح کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں۔
چینل کے مطابق اس منصوبے کے تحت ایک الگ مقام قائم کیا جائے گا جسے اسرائیلی سکیورٹی ادارے نے "اسرائیلی گرین مائل” کا نام دیا ہے، جہاں پھانسی کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی اور اس عمل کو تین رضاکار قیدی بیک وقت انجام دیں گے۔ اسی منصوبے کے مطابق عدالت کے حتمی فیصلے کے جاری ہونے کے 90 دن کے اندر سزا پر عمل درآمد کر دیا جائے گا۔
جیل خانہ جات کی انتظامیہ کے ذرائع کے حوالے سے چینل نے بتایا کہ اس منصوبے کا اطلاق سب سے پہلے ان اسیران پر ہوگا جنہیں سات اکتوبر (طوفان الاقصیٰ) کے واقعات کے تناظر میں مجرم قرار دیا گیا ہے، بعد ازاں اس کا دائرہ کار ان تمام افراد تک پھیلا دیا جائے گا جنہیں مغربی کنارہ میں اسرائیلیوں کے خلاف مبینہ پرتشدد حملوں کا مجرم ٹھہرایا جائے گا۔
واضح رہے کہ حماس کے رہنما محمود مرداوی نے گذشتہ دنوں اس بات پر زور دیا تھا کہ قابض انتہا پسند حکومت کی جانب سے اسیران کی سزائے موت کے قانون پر بحث کا آغاز کرنا ایک وحشیانہ اور خونی قانون سازی کی جانب نیا قدم ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
محمود مرداوی نے اپنے اخباری بیانات میں واضح کیا کہ اس کا مطلب جیلوں کے اندر قتل و غارت گری کی کارروائیوں کو قانونی چھتری فراہم کرنا اور انہیں فلسطینی عوام کے بیٹوں کو براہ راست قتل کے ذریعے ختم کرنے کے میدانوں میں تبدیل کرنا ہے، جبکہ قابض دشمن اس سے قبل سست رفتار قتل کے کئی طریقے جیسے تشدد اور طبی غفلت کو پہلے ہی اپنائے ہوئے ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی کنیسٹ نے گذشتہ نومبر میں انتہا پسند دائیں بازو کی جماعتوں، بالخصوص وزیر قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کی قیادت میں "عوتسما یہودیت” (یہودی طاقت) پارٹی کے دباؤ پر اسیران کی سزائے موت کے مسودہ قانون کی پہلی خواندگی میں 16 کے مقابلے میں 39 ووٹوںمرکزاطلاعات فلسطین
اسیران میڈیا آفس نے عبرانی چینل 13 کی اس رپورٹ کے حوالے سے سخت خبردار کیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی جیل خانہ جات کی انتظامیہ نے فلسطینی اسیران کے خلاف سزائے موت کے قانون کی پہلی خواندگی میں منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ یہ قدم جیلوں کے اندر اسیران کو نشانہ بنانے کے لیے ایک زیادہ خونی اور ہولناک مرحلے کا آغاز ہے۔
میڈیا آفس نے اپنے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے ایک خصوصی کمپلیکس کی تعمیر، آپریشنل طریقہ کار کی تشکیل، انسانی وسائل کی تربیت اور دیگر ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھانے جیسی باتیں، جیسا کہ عبرانی چینل کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے، اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ قابض اسرائیل فلسطینی اسیران کی نسل کشی کا جرم کرنے کے درپے ہے۔
بیان میں اس بات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ اس قانون کو حتمی شکل دینے کی کوششیں قابض اسرائیل کے جبر و ستم کے نظام میں ایک انتہائی خطرناک تبدیلی ہے، جو اس انتہا پسندانہ رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد جیلوں کے اندر منظم پالیسیوں کے تحت اسیران کے قتل کو قانونی رنگ دینا ہے۔
اسیران میڈیا آفس نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ فلسطینی اسیران کے خلاف سزائے موت کے نفاذ کو قانونی تحفظ دینے کے لیے قابض دشمن کی تیاریاں فلسطینی عوام کے ارادوں کو پست نہیں کر سکتیں اور نہ ہی یہ اسیران کی جدوجہد کی مشروعیت یا ان کے صبر و استقامت کو توڑنے میں کامیاب ہوں گی۔
میڈیا آفس نے اس خطرناک صورتحال کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری قابض اسرائیلی حکومت پر عائد کی ہے اور انسانی حقوق کے اداروں و بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں اور اس خطرناک راستے کو روکنے کے لیے فوری متحرک ہوں جو اسیران کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے اور ان کے مقدمے کے حوالے سے ایک انتہائی خونی باب کھول رہا ہے۔