(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل کی فضائی کارروائی میں خان یونس میں بے گھر افراد کی خیمہ بستی پر حملے کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ وسطی غزہ کے المغازی کیمپ میں پانچ منزلہ عمارت کے گرنے سے بھی دو شہری شہید ہوئے اور دیگر زخمی ہوئے۔
مقامی طبی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی ڈرون نے شمال مغربی خان یونس کے علاقے مواصی القرارہ میں بے گھر افراد کے خیمے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
اسی دوران المغازی پناہ گزین کیمپ میں پانچ منزلہ گھر کے گرنے سے دو شہری شہید اور پانچ دیگر زخمی ہوئے، جن میں ایک کی حالت شدید بتائی گئی ہے۔ دفاع مدنی نے بتایا کہ وسطی گورنری میں ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے پانچ زخمیوں کو نکالا۔
شہری دفاع نے مزید بتایا کہ ایندھن کی کمی اور ریسکیو آلات کی قلت کے سبب وہ اس وقت متاثرہ عمارتوں سے خطرات کے خاتمے کے لیے نئے امدادی آپریشن معطل کر چکے ہیں۔ البتہ جنگ بندی کے آغاز سے اب تک ان کی ٹیمیں 3445 عمارتوں اور گھروں سے خطرات دور کر چکی ہیں، تاہم 1560 امدادی درخواستیں ابھی بھی زیر التوا ہیں۔
قابض اسرائیل کی فضائیہ نے خان یونس کے مشرقی علاقوں پر دو فضائی حملے کیے، اور اسی دوران قابض فوج نے وہاں بڑے پیمانے پر گھروں کو منہدم کیا۔
مزید برآں، قابض اسرائیل نے رفح شہر کے جنوب پر تین فضائی حملے کیے، جبکہ شہر کے شمال مغربی علاقوں پر مسلسل توپ خانے سے فائرنگ کی گئی۔ قابض اسرائیل کی ٹینکوں نے خان یونس کے شمالی اور جنوبی علاقوں پر شدید فائرنگ کی، جبکہ جبالیا مخیم اور غزہ شہر کے مشرقی علاقوں پر بھی توپ خانے سے حملے کیے گئے۔
قابض اسرائیل 11 اکتوبر سنہ 2025ء سے غزہ میں نافذ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، اور سیاسی محاذ پر خطے میں امن قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں مقامی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کی 40 نئی خلاف ورزیاں ہوئیں، جن میں فائرنگ، محدود دراندازی اور گھروں و عمارتوں کی منہدم کاری شامل ہے، جس کے نتیجے میں خان یونس میں تین فلسطینی شہید ہوئے۔
وزارت صحت کے مطابق قابض اسرائیل کی حالیہ خلاف ورزیوں سے شہید ہونے والوں کی تعداد 422 تک پہنچ گئی، جبکہ 1189 زخمی ہوئے اور 684 لاشیں نکالی گئی ہیں۔ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری قابض اسرائیل کی نسل کشی میں مجموعی طور پر 71,388 فلسطینی شہید اور 171,269 زخمی ہو چکے ہیں۔
سیاسی حوالے سے ایک مصری ذریعے نے بتایا کہ 24 دسمبر کو قاہرہ میں اسرائیلی وفد کی حالیہ ملاقات کے دوران رفح بارڈر کے متبادل آپریشن پر اتفاق کیا گیا ہے، جس میں اسرائیل کے الیکٹرانک طریقے سے نگرانی کرے گا، جبکہ یورپی یونین سفر کے دستاویزات کی جانچ اور تصدیق کرے گا۔