(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) انسانی حقوق کے ایک ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران قابض صہیونی فوج کی بدنام زمانہ نفحہ جیل میں قید فلسطینی اسیران کو بے مثال خونریز اور جنونی حملوں کا سامنا رہا ہے، جہاں جیل انتظامیہ کی انتقامی پالیسیوں میں خطرناک حد تک اضافہ کیا گیا، جو اسیران کی زندگیوں کے لیے حقیقی خطرہ بن چکا ہے۔
ادارہ برائے امور اسیران نے اپنے بیان میں بتایا کہ اسے نفحہ جیل کے اندرونی حالات کے بارے میں نہایت اہم اور خطرناک معلومات موصول ہوئی ہیں۔ یہ معلومات حال ہی میں رہا ہونے والے اسیران کی براہ راست شہادتوں پر مبنی ہیں، جنہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ جیل کے حالات اب کھلے عام خونی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسیران پر ہونے والا حالیہ حملہ جنگ کے آغاز میں ان پر ڈھائی جانے والی سفاکیت سے بھی کہیں زیادہ شدید تھا اور اس کے پیچھے کوئی حقیقی جواز موجود نہیں تھا۔
ادارے نے وضاحت کی کہ اسیران کو تشدد اور مارپیٹ کے مختلف ہولناک طریقوں کا نشانہ بنایا گیا اور ان واقعات کو جنونی اور غیر انسانی حملے قرار دیا۔ بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ حالیہ یلغار کے دوران اسیر مسلمہ ثابت کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔
اسیران کی شہادتوں کے مطابق مسلمہ ثابت پر سینے اور جسم کے دیگر حصوں پر شدید تشدد کیا گیا، ان پر کالی مرچوں والی گیس کا اسپرے کیا گیا یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو گئے، اس کے بعد انہیں زمین پر پھینک دیا گیا اور ان کی صحت کی حالت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ جیل انتظامیہ اس پر بھی اکتفا نہ کر سکی بلکہ بعد ازاں اسیر مسلمہ ثابت پر کئی اضافی سزائیں مسلط کی گئیں۔ ان سزاؤں میں ان سے اور دیگر اسیران سے بستر اور کمبل چھین لینا، ذیابیطس کی دوا سے محروم کرنا اور کھلے عام یہ دھمکی دینا شامل ہے کہ اب وہ نشانے پر ہیں۔
ادارہ برائے امور اسیران و آزاد شدگان نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی اور تمام انسانی و حقوقی اداروں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر قابض اسرائیل کی جیلوں اور عقوبت خانوں کا رخ کریں، اسیران کو درپیش سنگین حالات کا خود مشاہدہ کریں اور قابض اسرائیل کی جانب سے اسیران کو تنہا نشانہ بنانے کے عمل کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔
حقوقی اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیل کی افواج نے سنہ 2025ء کے دوران شناخت شدہ 32 فلسطینی اسیران کو شہید کیا، جبکہ سنہ 2024ء میں 43 اسیران کو قتل کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ نہتے اسیران کے قتل کا سلسلہ تشدد، طبی غفلت، بھوک، مارپیٹ اور دیگر سنگین جرائم کے ذریعے جاری رہا، جو عالمی برادری کی آنکھوں کے سامنے بلا روک ٹوک انجام پاتے رہے۔
قابض اسرائیل کی جانب سے اسیران کے خلاف حملوں میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب غزہ پر نسل کش جنگ مسلط کی گئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں دسیوں ہزار فلسطینی شہید ہوئے، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، جبکہ قحط نے بچوں اور بزرگوں کی جانیں لے لیں۔ ان مظالم کے سائے میں تقریباً دس ہزار فلسطینی اسیر قابض اسرائیل کی جیلوں میں بدترین سفاکیت کا سامنا کر رہے ہیں۔