(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) یہودی شرپسندوں نے بیت لحم کے جنوب مشرق میں واقع بلدہ تقوع میں فلسطینیوں کی زرعی اراضی کو گھیرے میں لے کر اس پر قبضے کی عملی کوشش شروع کر دی جبکہ ایک اور واقعے میں سلفیت میں ایک فلسطینی شہری کی گاڑی پر وحشیانہ حملہ کیا گیا۔
بلدیہ تقوع کے ڈائریکٹر تیسیر ابو مفرح نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ یہودی آباد کاروں کے ایک گروہ نے بلدہ کے شمال مشرق میں واقع قنان شقیر کے علاقے پر دھاوا بول دیا اور خار دار تاروں کے ذریعے پندرہ دونم اراضی کو گھیرنا شروع کر دیا۔ یہ زمین زیتون کے درختوں سے آراستہ ہے اور العساکرہ خاندان سے تعلق رکھنے والے فلسطینی شہریوں کی ملکیت ہے جبکہ یہ اراضی شہریوں کے گھروں سے محض چند درجن میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے اور زمینی حقائق کو طاقت کے زور پر تبدیل کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہے جو قابض اسرائیل کی پشت پناہی سے جاری ہے۔
دوسری جانب اتوار ہی کے روز آباد کاروں نے سلفیت کے مغرب میں واقع بلدہ کفر الدیک کے ایک فلسطینی شہری کی گاڑی پر حملہ کیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق آباد کاروں نے بلدہ کے شمال میں بلاط سوسیا کے علاقے میں شہری جابر الدیک کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گاڑی کو شدید مالی نقصان پہنچا۔
فلسطینی دیوار اور آبادکاری مزاحمتی اتھارٹی کے مطابق نومبر میں ہی مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی جانب سے چھ سو اکیس حملے ریکارڈ کیے گئے جو آبادکاری کی بڑھتی ہوئی سفاکیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
غزہ میں نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیلی فوج اور آباد کاروں نے مقبوضہ مغربی کنارہ میں جن میں القدس گورنری بھی شامل ہے گیارہ سو تین سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا جبکہ قریب گیارہ ہزار فلسطینیوں کو زخمی کیا گیا۔ اس کے علاوہ اکیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔