• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 19 فروری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

قابض اسرائیل میں فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کی تیاری کا انکشاف

انتہا پسند صہیونی وزیر ایتمار بن گویر نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 100 قابض اسرائیلی ڈاکٹر فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے لیے رضاکارانہ طور پر تیار ہیں

بدھ 24-12-2025
in خاص خبریں, صیہونیزم
0
قابض اسرائیل میں فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کی تیاری کا انکشاف
0
SHARES
10
VIEWS

روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ

قابض اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے داخلی سکیورٹی ’ایتمار بن گویر‘ نےدعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 100 قابض اسرائیلی ڈاکٹر فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینےکے لیے رضاکارانہ طور پر تیار ہیں، بشرطیکہ کنیسٹ میں وہ متنازع قانون منظور ہو جائے جس کی قیادت وہ خود کر رہے ہیں۔

ایتمار بن گویر کے یہ بیانات قابض اسرائیلی پارلیمان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے ایک سخت اور تلخ اجلاس کے دوران سامنے آئے، جو اس متنازعہ قانون پر غور کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت کسی بھی فلسطینی اسیر کو جسے قابض اسرائیلیوں کے قتل میں ملوث قرار دیا جائے، سزائے موت دی جا سکے گی۔

مجوزہ قانون کے مطابق پھانسی کا حکم جاری ہونے کے 90 دن کے اندر زہریلے انجکشن کے ذریعے اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ ایتمار بن گویر نے ٹیلیگرام پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ چونکہ زندہ قابض اسرائیلی قیدی غزہ سے واپس آ چکے ہیں اس لیے اس قانون پر عمل نہ کرنے کا کوئی عذر یا جواز باقی نہیں رہتا۔

انتہا پسند وزیر نے اس حقیقت کے باوجود کہ قابض اسرائیل کی ڈاکٹروں کی یونین پہلے ہی کسی بھی سزائے موت پر عمل درآمد میں شرکت سے انکار کر چکی ہے۔ یہ دعویٰ کیا کہ 100 سے زائد ڈاکٹر درخواستیں دے چکے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں۔

ایتمار بن گویر نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل کا جنرل سکیورٹی ادارہ شاباک اس قانون کی حمایت کرتا ہے اور اس کے مطابق سزائے موت نافذ کرنے سے باز deterrence بڑھے گا، جیسا کہ اس کا دعویٰ ہے۔

اجلاس کے دوران زولات انسٹیٹیوٹ برائے مساوات اور انسانی حقوق کی چیف ایگزیکٹو عینات عوفادیا نے ایتمار بن گویر کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تم آخری شخص ہو جوڈیٹرنس حکمرانی یا سکیورٹی کی بات کر سکتا ہے اور آخری شخص ہو جس سے سزاؤں کے بارے میں مشورہ لیا جائے۔

عوفادیا نے مزید کہا کہ سزائے موت کوئی سزا نہیں بلکہ قتل ہے، جس پر ایتمار بن گویر نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور اسی ویڈیو کلپ میں ان پر قاتلوں اور حماس کی حمایت کا الزام عائد کیا۔

قابض اسرائیلی کنیسٹ گذشتہ نومبر میں فلسطینی اسیران کو سزائےموت کے قانون کی پہلی ریڈنگ میں منظوری دے چکی ہے تاہم یہ قانون نافذ ہونے کے لیے ابھی دوسری اور تیسری قراءت سے منظور ہونا باقی ہے۔

یہ مجوزہ قانون ایتمار بن گویر کی جانب سے فلسطینی اسیران کے خلاف سزاؤں کو مزید سخت بنانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، ایسے وقت میں جب قابض اسرائیلی جیلوں میں ان کے خلاف سنگین اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

فلسطینی اسیران کے امور سے وابستہ اداروں کے مطابق گذشتہ عرصے میں نافذ کیے گئے اقدامات میں ملاقاتوں پر پابندی، خوراک کی مقدار میں کمی اور غسل کی سہولت محدود کرنا شامل ہے، جو ایک منظم جابرانہ پالیسی کے تحت اسیران کے بنیادی انسانی حقوق کو نشانہ بنا رہی ہے۔

Tags: Death PenaltyHuman Rights ViolationsIsraeli ExtremismIsraeli OccupationItamar Ben GvirMiddle East PoliticsPalestine IssuePalestinian PrisonersPrisoners RightsWar Crimes
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.