• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

عباس ملیشیا کی جیلوں میں حماس اور جہاد اسلامی کے ارکان پر بہیمانہ تشدد: انسانی حقوق گروپ

منگل 12-10-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
1
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_palestinian-prisons-tortured-in-pa-jail

فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم”مرکز برائے انسانی حقوق” نے مغربی کنارے کے شہروں میں صدر محمود عباس کی زیراہتمام قائم جیلوں میں قیدیوں پر وحشیانہ تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے. تنظیم کا کہنا ہے کہ عباس سیکیورٹی فورسز کے خفیہ اہلکار حماس اور جہاد اسلامی کے زیرحراست ارکان پر بدترین تشدد کر کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں. مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق پیر کے روز مرکز انسانی حقوق کی جانب سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں محمود عباس کی جیلوں میں قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی پوری تفصیل بیان کی گئی ہے.رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ چند دنوں میں اگرچہ عباس ملیشیا نے حماس اور تحریک جہاد اسلامی کے بعض ارکان کو رہا بھی کیا ہے تاہم اس کے بدلے میں کئی گنا دوسرے ا رکان کو حراست میں لے کر ان پر تشدد کیا جا رہا ہے. سیکڑوں افراد اس وقت بھی عباس ملیشیا کی جیلوں میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں جبکہ ہزاروں افراد کو عباس ملیشیا نےجیلوں میں طلب کر رکھا ہے.انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے انہیں جیلوں سے ملنے والی اطلاعات میں زیرحراست افراد پر تشدد کے ہوشربا واقعات کا انکشاف ہوا ہے. جیلوں میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ جنگی مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے. قیدیوں پرعائد الزامات کے اعترافات اور راز اگلوانے کے لیے نہایت اذیت ناک تشدد کے طریقے اپنائے جاتے ہیں جس سے قیدیوں کے لیے اپنے ہوش و حواس قائم رکھنا بھی ناممکن ہوتا ہے. رپورٹ کے مطابق عباس ملیشیا کے زیرانتظام قائم مغربی کنارے کی مختلف جیلیں حماس اور جہاد اسلامی کے ارکان سے بھری ہوئی ہیں. حالیہ کارروائیوں میں الخلیل سے گرفتار کیے گیے 230 افراد اب بھی مختلف جیلوں میں وحشانہ تشدد کا نشانہ بنے ہوئے ہیں. ان میں سے 130 افراد الخلیل ہی میں عباس ملیشیا کی حراستی مرکز میں ،100 افراد ظاھریہ تفتیشی مرکز میں، بیت لحم جیل میں 40، نابلس میں 77 اور رام اللہ کی جیلوں میں 45 افراد کو عقوبت کا نشانہ بنایا گیا ہے. رپورٹ میں جیلوں سے رہا ہونے والے بعض عینی شاہدین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جیلوں میں حراست کے دوران بیشتر اوقات حماس اور جہاد اسلامی کے اراکین کو سیاہ ،تنگ اور تاریک کمروں میں قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے. بیشتر جیلوں میں حمام اور واش رومز تک بھی نہیں. پنجرہ نما بعض کمروں میں روشنی اور موسم کی گرمی سردی سے بچاٶ کا بھی کوئی انتظام نہیں. انسانی حقوق کی تنظیم نے بڑے عالمی اداروں کی توجہ فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی جانب مبذول کرائی ہے. تنظیم کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے تفتیش کار تشدد میں اسرائیلی تفتیش کاروں سے بھی آگے نکل گئے ہیں.انسانی حقوق گروپ نے صدر محمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ جیلوں میں ہونے والے غیرانسانی سلوک کا سختی سے نوٹس لیں اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم جاری کریں.

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.