• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
منگل 10 فروری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

لندن میں فلسطین نواز کارکنوں کی تاریخی بھوک ہڑتال جاری

لندن میں فلسطین کے حق میں سرگرم کارکن نے تین دہائیوں سے طویل ترین بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔

جمعرات 11-12-2025
in خاص خبریں, صیہونیزم, عالمی خبریں
0
لندن میں فلسطین نواز کارکنوں کی تاریخی بھوک ہڑتال جاری
0
SHARES
13
VIEWS

روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ

برطانیہ میں ’’فلسطین ایکشن‘‘ سے وابستہ آٹھ گرفتار کارکن اپنے اوپر جولائی میں اس گروپ پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سے جاری حراست کے خلاف گذشتہ تیس دن سے زائد عرصے سے کھلے عام بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

برطانوی رپورٹوں کے مطابق بھوک ہڑتال کرنے والے بعض کارکنوں کو طبی نگہداشت فراہم کی جا چکی ہے جب کہ طویل بھوک ہڑتال کے نتیجے میں ان کی صحت پر شدید خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

یہ احتجاجی اقدام برطانوی جیلوں میں سنہ اسی کی دہائی کے بعد ہونے والی سب سے طویل اجتماعی بھوک ہڑتال قرار دیا جا رہا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال برطانوی حکام اور قابض اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف متحرک گروپوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کو بے نقاب کرتی ہے۔

اسی سلسلے میں ویب سائٹ ’’دی کنیری‘‘ نے اپنی رپورٹ میں برطانوی نشریاتی ادارے "بی بی سی” کی جانب سے اس انسانی اور سیاسی نوعیت کے مسئلے کی عدم کوریج پر شدید تنقید کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ متبادل میڈیا اس معاملے پر روزانہ کی بنیاد پر تازہ معلومات شائع کر رہا ہے جب کہ سرکاری نشریاتی ادارہ اس اہم ترین انسانی مسئلے سے نظریں چرا رہا ہے۔

لندن میں "بی بی سی” کے دفتر کے باہر کارکنوں نے احتجاج بھی کیا اور کہا کہ کوریج سے دانستہ گریز ایک جانب داری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ پر جنگ کے دوران برطانوی میڈیا کے کردار پر بھی شدید تنقید ہو رہی ہے۔ اس سے متعلق ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کر رہی ہیں۔

دی کنیری کے مطابق برطانوی وزیر انصاف ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ وہ اس کیس سے ’’باخبر نہیں‘‘ ہیں۔ ان کے اس بیان نے کارکنوں میں بے چینی بڑھا دی جنہوں نے کہا کہ اتنے بڑے انسانی مسئلے سے لاتعلق رہنا ناقابل فہم ہے۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ زارا سلطانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت ’’سنہ اسی کی دہائی کے بعد کی سب سے بڑی منظم بھوک ہڑتال‘‘ کی نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’فلسطین ایکشن‘‘ پر غزہ پر جنگ کے خلاف سرگرمی کی وجہ سے پابندی لگائی گئی جس نے برطانیہ بھر میں شدید اعتراضات کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے اس مسئلے کی میڈیا میں عدم کوریج کو ’’حیران کن‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ رویہ حکومت کے ان اقدامات کو تقویت دیتا ہے جنہیں انہوں نے آزادی اظہارِ رائے کے خلاف پابندیاں کہا۔

ویب سائٹ پر جاری ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ زارا سلطانہ نے برونزفیلڈ جیل کا دورہ کر کے بھوک ہڑتالی کارکنوں کی حالت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے قیدیوں کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا اور فوری سرکاری ردعمل کی ضرورت پر زور دیا۔

رواں ماہ کے آغاز میں برطانوی ایوانِِ عامہ کے 37 ارکان پارلیمان نے ایک درخواست پیش کی تھی جس میں وزیر انصاف سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قیدیوں کے ساتھ باعزت سلوک اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنائیں۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ اس حد تک بھوک ہڑتال پر مجبور ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ احتجاج کے روایتی راستے ان کارکنوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔

Tags: Free PalestineGaza under attackHuman rights violationIsraeli aggressionWar crimes in Gazaاسرائیلی قبضہعالمی یکجہتیغزہ میں نسل کشیفلسطینی مزاحمتمسجد اقصیٰ
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.