• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
ہفتہ 29 نومبر 2025
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

انسولین نہ ملنے سے غزہ میں خطرناک صورتِ حال

شوگر کے مریض بدترین انسانی بحران کا شکار

ہفتہ 29-11-2025
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
انسولین نہ ملنے سے غزہ میں خطرناک صورتِ حال
0
SHARES
0
VIEWS

غزہ ۔روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ

غزہ کے محاصرہ زدہ اور جنگ کی لپیٹ میں جکڑے ہوئے علاقے میں ذیابطیس کے مریض روزانہ زندگی کی ایک نئی آزمائش سے گزرتے ہیں۔
انسولین، وہ بنیادی دوا جس پر ہزاروں مریض ہر دن اپنی سانسوں کا انحصار رکھتے ہیں، اب نایاب ہو چکی ہے۔ صحت مراکز اور ہسپتالوں کے شیلف خالی ہو گئے ہیں اور معائنے کے آلات تک غائب ہیں۔ دوا کی کمی ہر طلوعِ آفتاب کے ساتھ موت کے براہ راست خطرے میں بدل رہی ہے۔

خوف اور بے بسی

ام معاذ شہوان پندرہ برس کے ذیابطیس کے مریض ریاض کی والدہ کہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ”میرا بیٹا ریاض انسولین کی بڑی مقدار کا محتاج ہے۔ اب میں اس کی نیند سے پہلے اس کی سانسوں تک گننے لگی ہوں۔ اسے یہ مرض وراثت میں ملا تھا، لیکن علاج رُکنے کے بعد بیماری بے قابو ہو گئی ہے۔ اس کا شوگر خطرناک حد تک اوپر نیچے ہوتا ہے”۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ”روزانہ صحت مراکز کے چکر لگاتی ہوں مگر ایک سوئی بھی نہیں ملتی۔ میں اپنے بیٹے کے لیے خوفزدہ ہوں، اس کی نظر بھی کمزور ہونے لگی ہے”۔

زندگی اور موت کے درمیان معلق مریض

یہ دردناک کہانی صرف ایک نہیں۔ ام محمد زاہد ایک اور بچے کی ماں ہیں جو اپنی اذیت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ”میرے بیٹے کو روزانہ انسولین چاہیے۔ ایک ہفتہ ہو گیا ہمیں ہسپتالوں اور میڈیکل سٹورز میں دوا نہیں مل رہی۔ اسے کمزور ہوتے دیکھ کر میرا دل ٹوٹ جاتا ہے”۔

انسولین کوئی ایسی دوا نہیں جسے مؤخر کیا جا سکے۔ یہ سیدھا زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ ہر چھوٹی سی کمی خون میں شوگر بڑھنے، غشی طاری ہونے اور موت تک لے جا سکتی ہے۔ اسی لیے میں ہر لمحہ خوف میں رہتی ہوں”۔

محمد مقداد کی عمر چھیاسٹھ سال ہے۔ وہ لرزتے ہوئے دھاتی کرسی پر بیٹھے، کٹی ہوئی ٹانگ کی جگہ ہاتھ پھیرتے ہوئے آہ بھرتے ہیں کہ
"میں نے اپنی ٹانگ بیماری کے ہاتھوں کھو دی، لیکن اگر وقت پر علاج مل جاتا تو نوبت یہاں تک کبھی نہ پہنچتی”۔

وہ بتاتے ہیں کہ سب کچھ ایک معمولی زخم سے شروع ہوا تھا۔ جب مراکز صحت گئے تو نہ دوا تھی نہ نرس۔”سارے میڈیکل سٹورز چھان ڈالے، نہ مرہم ملا نہ کوئی دوا۔ ہر طرف کچھ نہیں تھا۔ میرا پاؤں سوج کر سرخ ہو گیا، آگ کی طرح جلتا تھا۔ میرے پاس شوگر چیک کرنے کا آلہ بھی نہیں تھا کہ جان سکوں کہ میری حالت کتنی بگڑ رہی ہے”۔

مشکل سے جب وہ مشرقی غزہ کے المعمدانی ہسپتال پہنچے تو حالت بہت خراب ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر نے صاف کہا کہ”اگر علاج شروع دن سے مل جاتا تو کاٹنے کی نوبت کبھی نہ آتی”۔

یہ کربناک قصے نہ صرف بچوں یا بزرگوں کے ہیں بلکہ ہر اس شخص کے ہیں جو انسولین پر زندہ ہے۔

بڑھتی ہوئی انسانی بحران

نادرہ الیحییٰ، جو پانچ برس سے ذیابطیس کی مریضہ ہیں، کہتی ہیں کہ”انسولین کی قلت کوئی نئی بات نہیں تھی، مگر جنگ کے آغاز کے ساتھ بارڈر بند ہونے سے دوا کی فراہمی یکسر رک گئی۔ میں نے بچا کر رکھے گئے انسولین کی مقدار کم کرنی شروع کر دی، لیکن اب چکر اور دائمی تھکن معمول بن چکی ہے۔ ہم صرف جینے کا حق مانگ رہے ہیں بس”۔

محمد سلامہ کی عمر بیالیس سال ہے ذیابطیس کے دوسرے درجے کے مریض ہیں اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہیں کہ”پہلے میں سمجھتا تھا کہ یہ عارضی بحران ہے۔ مگر اب حالت یہ ہے کہ تین میڈیکل سٹورز گھوم کر بھی کچھ نہیں ملتا۔ زندگی بدل گئی ہے۔ مسلسل تھکن، کمزوری، اور سر چکرانا میرے معمول میں شامل ہو چکا ہے۔ میں کھانے کی مقدار کم کر کے شوگر سنبھالنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ زیادہ دوا کی ضرورت نہ پڑے۔

جنگ نے پہلے ہی ہماری زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔ بمباری، قتل، بے گھر ہونا، سب کچھ لٹ جانا اور اب دوا کی قلت ایک دوسری جنگ بن گئی ہے جو ہمیں موت کی سست راہ پر دھکیل رہی ہے”۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف دوا کی کمی نہیں بلکہ سیدھا زندگی کا خطرہ ہے۔یورپی غزہ ہسپتال کے اینڈوکرائنولوجی کے سربراہ ڈاکٹر احمد ابو طہ کا کہنا ہے:
"حالات انتہائی خطرناک ہیں۔ انسولین پر روزانہ انحصار کرنے والے مریضوں کے لیے تھوڑی سی بھی رکاوٹ چند دنوں میں خطرناک پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے”۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جنگ کے پہلے ہی دن سے انسولین کی قلت شروع ہو گئی تھی۔”جو تھوڑی بہت مقدار کہیں بچ بھی گئی تھی وہ بجلی نہ ہونے یا مسلسل نقل مکانی کی وجہ سے خراب ہو گئی۔ نتیجتاً شوگر لیول قابو سے باہر ہونے لگے”۔

انسولین اور ٹیسٹ کی کمی نے پیچیدگیوں میں تیزی سے اضافہ کیا ہے، جن میں گردے فیل ہونا، دل کی بیماریاں، بینائی متاثر ہونا، شدید انفیکشن اور کئی بار عضو کاٹنے تک کی نوبت شامل ہے۔

ڈاکٹر ابو طہ کے مطابق بحران کئی عوامل سے پیدا ہوا ہے کہ دوا کی فراہمی روک دینا، عالمی امداد میں کمی، تباہ شدہ طبی ڈھانچہ اور صحت کے شعبے کے لیے مستحکم مدد کا فقدان… یہ سب مل کر ذیابطیس کے مریضوں کو انتہائی مشکل حالات میں دھکیل رہے ہیں۔

صورتحال المناک

امراض باطنہ اور غدد کے ماہر ڈاکٹر اسماعیل عبد المنعم کا کہنا ہے کہ”غزہ میں ذیابطیس کے مریضوں کی حالت تباہ کن ہو چکی ہے۔ انسولین زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ ایک دن بھی دوا نہ ملے تو نتیجہ غیبوبہ یا اچانک موت ہو سکتا ہے”۔

انہوں نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ”دواؤں اور معائنے کے آلات کی شدید کمی، بجلی کا نایاب ہونا اور دوا کو محفوظ نہ رکھ پانا، مریضوں کی دیکھ بھال تقریباً ناممکن بنا رہا ہے۔ اس سے دل، گردے اور بینائی سمیت کئی سنگین پیچیدگیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں”۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ "ہم ایک حقیقی صحتی المیے کے سامنے کھڑے ہیں۔ فوری اقدام کے بغیر انسولین کی فراہمی ناممکن رہے گی اور مزید زندگیاں خطرے میں پڑتی رہیں گی۔ مریضوں کے علاج کے بنیادی حق کی حفاظت کے لیے فوری مداخلت ضروری ہے”۔

Tags: Free PalestineGaza under attackHuman rights violationIsraeli aggressionWar crimes in Gazaاسرائیلی قبضہعالمی یکجہتیغزہ میں نسل کشیفلسطینی مزاحمتمسجد اقصیٰ
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.