(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی منظم بھوک کی پالیسی کے باعث گیلین بیری سنڈروم کے آٹھ مریض شہید ہو گئے ہیں۔
وزارت کے ڈائریکٹر جنرل، منیر البرش نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کردہ قحط کی وجہ سے گزشتہ ہفتوں میں گیلین بیری سنڈروم (جی بی ایس) کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے یہاں تک کہ درجنوں مریضوں کو زندہ رہنے کے لیے مصنوعی تنفس کی مشینوں کی ضرورت پڑ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بیماری سے آٹھ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جو غزہ میں اس مرض کے کل مریضوں کا چھ اشاریہ دو فیصد ہیں۔ جبکہ باقی مریض آہستہ اور خاموشی سے موت کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ آلودہ پانی، خوراک کی عدم دستیابی، اور قابض اسرائیل کی بھوک کی پالیسی سے پیدا ہونے والی غذائی قلت، اس کے ساتھ میونوگلوبولن اور پلازما فیریسس جیسی بنیادی ادویات کی عدم دستیابی نے اس بیماری کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے درجنوں مریضوں کو زندہ رہنے کے لیے مصنوعی سانس کی مشینوں کی ضرورت پڑ رہی ہے۔
گیلین بیری سنڈروم ایک نایاب بیماری ہے جو نچلے اعضاء میں کمزوری سے شروع ہوتی ہے اور پھر مرکزی اعصابی نظام تک پھیل جاتی ہے اور یہ سانس کی نسوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
یہ واقعات غزہ میں قابض اسرائیل کی منظم بھوک کی بربریت اور بچوں میں غذائی قلت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں جس سے ان کی قوتِ مدافعت کمزور ہو رہی ہے اور قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی کے تحت نایاب بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
البرش نے کہا غزہ میں بیماری اب اپنے شکار کا انتخاب نہیں کرتی، بلکہ پوری سرزمین درد اور تکلیف کے لیے ایک زرخیز ماحول بن چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آلودہ پانی، نایاب خوراک اور غذائی قلت یہ سب ایسے غیر مرئی دشمن بن چکے ہیں جو میزائلوں سے پہلے آتے ہیں اور خاموشی سے جانیں لے رہے ہیں۔
البرش نے غزہ میں مریضوں کی جان بچانے کے لیے ایک انسانی اپیل جاری کی اور کہا کہ انہیں بچانا صرف بیانات سے ممکن نہیں ہوگا، بلکہ فوری علاج کی فراہمی اور بھوک و بمباری کے ریکارڈ میں ایک اور شہادت کے اضافے کو روکنے سے ہوگا۔
غزہ کے اسپتالوں میں ادویات اور طبی سامان کی شدید کمی ہے اور ان کی تشخیصی و علاج کی صلاحیتیں تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
دومارچ سے قابض اسرائیل نے غزہ کی تمام گزرگاہیں بند کر رکھی ہیں جس سے کسی بھی قسم کی انسانی امداد کا داخلہ ناممکن ہو گیا ہے۔ اس سے پٹی میں قحط کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جبکہ امدادی ٹرک سرحدوں پر جمع ہیں اور قابض اسرائیل صرف محدود مقدار میں امداد داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے جو فلسطینیوں کی کم سے کم ضروریات بھی پوری نہیں کر پاتی۔
غزہ کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا کہ ساتھ اکتوبر 2023 سے قابض اسرائیل کی بھوک کی پالیسی کے باعث ہونے والی شہادتوںکی تعداد بڑھ کر تین سو تیرہ ہو گئی ہے جن میں ایک سو انیس بچے شامل ہیں۔