ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی مائیکروسافٹ نے اپنے دو ملازمین کو اس وقت برطرف کر دیا جب انہوں نے کمپنی کے صدر کے دفتر میں دھرنا دے کر قابض اسرائیل کے ساتھ جاری تعلقات کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں کیا گیا جب غزہ پر قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ سات اکتوبر سنہ2023ء سے آج تک جاری ہے۔
مائیکروسافٹ کے ترجمان نے کہا کہ یہ برطرفیاں کمپنی کی پالیسی اور اخلاقی ضابطے کی مبینہ سنگین خلاف ورزی پر کی گئیں جن میں اعلیٰ عہدیداروں کے دفاتر میں زبردستی داخل ہونا شامل تھا۔ احتجاجی گروپ "نو آزور فار اپارتھائیڈ” نے اپنے بیان میں کہا کہ آنا ہاتل اور رکی فیملی کو ان کی برطرفی کی اطلاع صوتی پیغامات کے ذریعے دی گئی۔
گذشتہ منگل کو اس احتجاجی مظاہرے کے دوران کل سات افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے دو موجودہ ملازمین تھے جبکہ باقی پانچ یا تو سابقہ ملازمین تھے یا کمپنی سے باہر کے افراد۔ ان سب نے صدر کمپنی براڈ اسمتھ کے دفتر پر قبضہ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
بدھ کے روز آنا ہاتل نے اپنے بیان میں کہا کہ "ہم اس لیے یہاں ہیں کیونکہ مائیکروسافٹ مسلسل قابض اسرائیل کو وہ اوزار فراہم کر رہا ہے جن کی بنیاد پر وہ فلسطینی عوام کی نسل کشی کر رہا ہے اور ساتھ ہی اپنے ملازمین کو دھوکہ دے رہا ہے تاکہ اصل حقیقت ان پر ظاہر نہ ہو”۔
احتجاجی گروپ "نو آزور فار اپارتھائیڈ” نے مطالبہ کیا کہ مائیکروسافٹ فوری طور پر قابض اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کرے اور فلسطینی عوام کو ان نقصانات کا معاوضہ ادا کرے جو اس کے سافٹ ویئر کے ذریعے ممکن ہوئے۔
براڈ اسمتھ نے منگل کے روز کہا تھا کہ "ہم اس ملک میں ہر ایک کے اظہارِ رائے کے حق کا احترام کرتے ہیں بشرطیکہ یہ قانونی دائرے میں ہو۔”
ادھر ایک مشترکہ میڈیا تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کے خفیہ ادارے نے مائیکروسافٹ کے آزور سافٹ ویئر کو استعمال کرتے ہوئے مغربی کنارے اور غزہ کے محصور عوام کی لاکھوں ٹیلی فون کالز کا ریکارڈ جمع کیا۔ یہ اقدام اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ مائیکروسافٹ کا تعاون قابض اسرائیل کی نگرانی، جبر اور فلسطینی عوام پر ریاستی دہشت گردی کے ارتکاب میں براہِ راست مددگار بن رہا ہے۔