(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) یروشلم کے بطریچ الروم آرتھوڈوکس اور لاطینی چرچ نے ایک مشترکہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کے پادری اور راہبائیں کسی بھی صورت میں غزہ نہیں چھوڑیں گے اور اپنے کلیسائی مراکز میں پناہ لینے والے تمام فلسطینیوں کی خدمت اور دیکھ بھال جاری رکھیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے ہی غزہ شہر میں واقع مار بورفیریوس چرچ اور کلیسائے خاندانِ مقدس، سینکڑوں بزرگ شہریوں، خواتین اور معصوم بچوں کے لیے پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں۔
دونوں چرچ مراکز نے خبردار کیا کہ قابض اسرائیلی حکومت نے چند ہفتے قبل یہ واضح کیا تھا کہ وہ غزہ شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جہاں لاکھوں شہری آباد ہیں اور جہاں یہ کلیسا بھی واقع ہیں۔ قابض انتظامیہ ان تمام شہریوں کو زبردستی جنوبی غزہ کی طرف دھکیلنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ شہر سے نقل مکانی کر کے جنوبی حصے کی طرف جانا ان معصوم شہریوں کے لیے کھلے عام سزائے موت کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی حالت میں شہریوں کے اس اجتماعی اور جبری انخلاء کا کوئی جواز نہیں۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ لاطینی کلیسا کے احاطے میں کئی سالوں سے خصوصی ضروریات کے حامل افراد مقیم ہیں جو مرسلات المحبہ تنظیم کے تحت علاج اور دیکھ بھال حاصل کر رہے ہیں۔
دونوں کلیساؤں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ مہینوں کے دوران غذائی قلت اور بنیادی ضروریات سے محرومی نے پناہ گزینوں کو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا ہے وہ شدید کمزوری اور بدترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کوئی ایسا مستقبل قائم نہیں ہو سکتا جو قید، جبری ہجرت یا فلسطینی عوام سے انتقام کی بنیاد پر ہو۔
آخر میں دونوں بطریرکیتا نے عالمی برادری اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھیں اور اس تباہ کن اور غیر انسانی جنگ کو فوری طور پر ختم کرائیں۔