(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) یمن کی عوام کی بڑی تعداد نے جمعہ کی دوپہر غزہ کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکل کر عظیم الشان مظاہروں میں شرکت کی۔ یہ مظاہرے "ثابت قدم ہیں ہم غزہ کے ساتھ، دھمکیوں سے ڈرتے ہیں نہ سازشوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں” کے عنوان سے منعقد ہوئے جنہوں نے فلسطینی آزادی کے ساتھ یمنی عوام کے غیر متزلزل عزم اور عرب ممالک کی بے حسی و بین الاقوامی خاموشی کے خلاف بھرپور پیغام دیا۔
مظاہرین نے یمن اور فلسطین کے پرچم بلند کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دونوں اقوام کا مقدر ایک ہے اور فلسطین کی حمایت یمنی عوام کے ایمان اور نصب العین کا لازمی جزو ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ غزہ تنہا نہیں اور وہ ہمیشہ یمنی عوام کی ترجیحات میں سرِفہرست رہے گا۔
شرکاء نے اپنے نعروں میں دو ٹوک اعلان کیا کہ کوئی دھمکی یا سازش انہیں فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے رہنے کے دینی اور انسانی فریضے سے نہیں روک سکتی۔ وہ اس وقت تک اپنی حمایت جاری رکھیں گے جب تک قابض اسرائیل کا وحشیانہ ظلم اور غزہ کا محاصرہ ختم نہیں ہو جاتا، چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔
مظاہرین نے بعض عرب حکومتوں کی پالیسیوں کی شدید مذمت کی جو قابض اسرائیل کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں اور فلسطین و لبنان میں مزاحمت کا اسلحہ ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان غدارانہ پالیسیوں نے دشمن کو مزید حوصلہ دیا ہے کہ وہ غزہ کے معصوم شہریوں کا قتلِ عام کرے اور امت کی مقدسات کو نشانہ بنائے۔
مظاہروں میں شریک عوام نے پوری امت کو قرآن کریم کی طرف حقیقی رجوع کی دعوت دی جسے عزت و کرامت کی بازیابی اور دشمنوں پر فتح کا واحد راستہ قرار دیا گیا۔
بیضاء کے مفتی علامہ حسین الہدار نے ریلی کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ اس بیان میں کہا گیا کہ یہ ہفتہ وار مظاہرے دینی اور انسانی ذمہ داری کے تحت نکالے جاتے ہیں تاکہ غزہ اور مسجد اقصیٰ کی حمایت اور بڑھتے ہوئے صہیونی جرائم کے خلاف آواز بلند کی جا سکے۔
اعلامیے میں امریکی حمایت یافتہ قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جارحیت کے نئے مرحلے کے آغاز کی مذمت کی گئی اور فلسطینی مزاحمت کی بہادری و قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی کارروائیوں میں مزید شدت اور عسکری صلاحیتوں میں ترقی پر زور دیا گیا۔
بیان میں دنیا بھر کی اقوام اور خصوصاً امت مسلمہ کے عوام اور آزاد انسانوں کو دعوت دی گئی کہ وہ فلسطین اور لبنان میں مزاحمت کی بھرپور حمایت کریں اور ان تمام سازشوں کو ناکام بنائیں جو امت کو کمزور کر کےسفاکانہ گریٹر اسرائیل منصوبے کو نافذ کرنے کے لیے رچی جا رہی ہیں۔