(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے مصر کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مجوزہ معاہدے پر اپنا باضابطہ جواب جمعہ کی شب قاہرہ کو بھیج دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ پر جاری صیہونی دہشتگردی نے انسانی بحران کو سنگین تر بنا دیا ہے۔
عبرانی نیوز ویب سائٹ واللا نے ایک اعلیٰ صیہونی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد قاہرہ کو جواب روانہ کیا۔
مصر کی طرف سے تجویز کردہ معاہدے میں درج نکات کے مطابق: غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے زیر حراست آٹھ زندہ صیہونی قیدیوں اور آٹھ لاشوں کی رہائی کی جائے گی، دونوں فریقین کی رضا مندگی سے غزہ پر جاری جنگ بندی 40 سے 50 دن تک جاری رہے گی، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج ان مقامات پر واپس چلی جائے گی جہاں وہ 17 مارچ سے قبل موجود تھی، صیہونی ریاست یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گی اور محصور شہر غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل بحال کیا جائے گا۔
صیہونی اہلکار کے مطابق، تل ابیب کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قیدیوں کی تعداد آٹھ سے زیادہ ہونی چاہیے، اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے کچھ شرائط پر دوبارہ غور کیا جائے۔ ساتھ ہی صیہونی فوج کی جزوی دوبارہ تعیناتی پر آمادگی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
صیہونی اہلکار کا کہنا تھا کہ اگرچہ قیدیوں کی تعداد کے معاملے پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور حماس کے درمیان تاحال اختلافات باقی ہیں، تاہم یہ اختلافات مذاکرات کے ذریعے ختم کیے جا سکتے ہیں۔
"اب وقت ہے کہ ہم سنجیدہ اور حقیقی مذاکرات شروع کریں۔ اگرچہ یہ آسان نہیں ہوگا اور ہمیں مزید رعایتیں دینی پڑیں گی، لیکن قیدیوں کی رہائی کے لیے یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔”
ادھر واللا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے حماس کو ثالثوں کے ذریعے پیغام بھیجا ہے کہ اگر وہ اس معاہدے پر رضامند ہو جائے، تو امریکہ اس بات کی ضمانت دے گا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کرے گی۔
ادھر صیہونی چینل کان نے دعویٰ کیا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کی بات چیت میں پیش رفت مصر کے شدید سفارتی دباؤ کا نتیجہ ہے، جو حماس کو قابل قبول معاہدے کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیل ممکنہ طور پر اس تجویز کو تسلیم کر سکتا ہے جس میں آٹھ زندہ قیدیوں اور آٹھ لاشوں کی رہائی شامل ہو۔
رپورٹ کے مطابق حماس کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد دوبارہ حملے سے بچاؤ کے لیے باقاعدہ اور تحریری ضمانت دی جائے، تاکہ فلسطینی عوام کو پائیدار امن مل سکے۔
صیہونی چینل 12 نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ قیدیوں کے اہل خانہ کو باقاعدہ طور پر مطلع کیا گیا ہے کہ مذاکرات میں "نمایاں پیش رفت” ہو چکی ہے، اور آئندہ چند روز میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، حماس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جس کی قیادت خلیل الحیة کر رہے ہیں، ہفتے کے روز قاہرہ پہنچے گا تاکہ مصر کی جانب سے پیش کردہ معاہدے پر مزید گفت و شنید کی جا سکے۔
