(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطین کے محصور شہر غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی نام نہاد فوج کے ہاتھوں 14 طبی اور انسانی ہمدردی کے کارکنوں کے بہیمانہ قتل کی اقوام متحدہ نے سخت مذمت کی ہے۔
23 مارچ کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک نے اپنے ایک بیان میں اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے”۔
فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے اطلاع دی تھی کہ 23 مارچ کو رفح میں زخمی افراد کو بچانے کے لیے انہوں نے چار ایمبولینسیں اور عملہ روانہ کیا تھا، لیکن غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج نے علاقے کا محاصرہ کر رکھا تھا، جس کے نتیجے میں مزید افراد زخمی ہوئے۔ اسی دن غزہ میں سول پروٹیکشن یونٹ کے عملے کا فلسطینی ہلال احمر کے امدادی کارکنوں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
اتوار کے روز فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے اعلان کیا کہ ایک ہفتہ قبل رفح کے تل السلطان محلے پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 14 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ ان لاشوں میں سوسائٹی کے آٹھ کارکنان، سول ڈیفنس کے پانچ اہلکار اور ‘انروا’ کے ایک ملازم شامل تھے۔
اس واقعے کی تفصیلات فلسطینی سول ڈیفنس کی جانب سے فراہم کی گئیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 15 تک پہنچ گئی، کیونکہ اسی ٹیم کے ایک اور رکن کی لاش بھی بازیاب کی گئی۔
یہ حملہ غزہ کی پٹی پر 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے دوران پیش آیا، جس میں اب تک 1,513 طبی اور امدادی کارکن شہید ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری سے اس ظلم کے خلاف فوری اقدامات کی اپیل کی جا رہی ہے۔