(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ)محصور شہر غزہ میں عید کے پہلے دن سے اب تک چوبیس گھنٹوں کے دوران جاری دہشتگردی میں خواتین اور بچوں سمیت ، 64 فلسطینی شہید درجنوں مزید زخمی ہوگئے ہیں۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق، عید الفطر کے پہلے دن کے اختتام کے بعد بھی غزہ پر بمباری جاری رہی، جبکہ فریقین کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں تاحال ناکام رہی ہیں۔ یہ مذاکرات عید الفطر اور یہودیوں کے عید الفصح کے موقع پر کیے جا رہے تھے۔ تاہم، اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق، کئی نکات اب بھی معاہدے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جن میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے آغاز اور جنگ بندی کا وقت طے کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی بڑی تعداد میں رہائی سے انکاری ہے۔
حماس نے مذاکرات کے دوران غزہ سے مکمل انخلا کو معاہدے کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا، لیکن غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔ ذرائع کے مطابق، فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے اسرائیلی پابندی اور بین الاقوامی ضمانتیں طلب کی ہیں کہ اگر جنگ بندی پر اتفاق ہو بھی جائے تو غزہ میں دوبارہ جنگ مسلط نہیں کی جائے گی۔
دریں اثنا، فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کے روز 14 شہداء کی لاشیں برآمد کی گئیں، جن میں 8 امدادی کارکن، 5 فلسطینی سول ڈیفنس کے اہلکار، اور اقوام متحدہ کا ایک ملازم شامل ہے۔ یہ افراد ایک ہفتے قبل رفح میں انسانی امدادی سرگرمیوں کے دوران اسرائیلی حملے کا نشانہ بنے تھے، جس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر، فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلی فونک گفتگو میں "غزہ پر بمباری روکنے اور جنگ بندی پر واپسی” کا مطالبہ کیا ہے۔ اس دوران، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے نہ صرف غزہ بلکہ لبنان پر بھی حملے جاری رکھے، اور 4 ماہ بعد پہلی بار جنوبی بیروت کے علاقے پر فضائی بمباری کی۔