(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے اس امر پر زور دیا ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج بیت لاہیا میں کیے گئے قتل عام کو جواز فراہم کرنے کے لیے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔
اتوار کو جاری ایک بیان میں میڈیا آفس نے کہا کہ قابض فوج ہفتے کے روز اپنے سنگین جرم کو چھپانے کے لیے من گھڑت الزامات کا سہارا لے رہی ہے، جس میں دس امدادی کارکنوں اور صحافیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ غاصب صیہونی فوج کے ترجمان کی جانب سے قتل عام کو جواز فراہم کرنے کے لیے جاری کیا گیا بیان اس حقیقت کو مزید آشکار کرتا ہے کہ غاصب صیہونی فوج اور اس کے رہنما غزہ میں نہتے فلسطینیوں ایک کے بعد ایک جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وہ اپنے مذموم عزائم کی پردہ پوشی کے لیے جھوٹے بیانیے تشکیل دیتے ہیں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔
سرکاری میڈیا آفس نے بیت لاہیا قتل عام کے متاثرین کے خلاف صیہونی فوج کے جھوٹے الزامات اور بے بنیاد دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غاصب صیہونی فوج بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے مسلسل فریب کاری میں مصروف ہے۔
قتل عام سے متعلق قابض فوج کے ترجمان کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے میڈیا آفس نے نشاندہی کی کہ شہید بلال ابو مطر کے حوالے سے فراہم کردہ شناختی تصویر ان کی نہیں تھی، جو قابض فوج کی گھڑی ہوئی کہانی کا واضح ثبوت ہے۔
اسی طرح، شہید محمود اسلم کا جو مکمل نام بیان میں دیا گیا، وہ غلط نکلا۔ درحقیقت، یہ کسی اور زندہ شخص کا نام تھا، جبکہ "صہیب النجر” نامی فرد، جسے صیہونی فوج نے قتل عام کے شہداء میں شامل قرار دیا، وہ امدادی عملے کا رکن ہی نہیں تھا۔
مزید برآں، شہید محمد الغفار کے حوالے سے قابض فوج کا بیان مشکوک نکلا، کیونکہ اگر انہیں ان کا مکمل نام تک معلوم نہیں تھا تو ان سے متعلق دیگر تفصیلات کی حقیقت بھی مشکوک ہو جاتی ہے۔
سرکاری میڈیا آفس نے یہ بھی واضح کیا کہ "مصطفیٰ حماد”، جسے قابض فوج نے میڈیا کارکن کے طور پر متعارف کرایا، درحقیقت امدادی یا صحافتی سرگرمیوں سے منسلک نہیں تھا۔
بیان کے مطابق، سوشل میڈیا پر جو جعلی نام گردش کر رہے تھے، وہ بعد میں جھوٹے ثابت ہوئے، اور قتل عام کے حقیقی شہداء کی شناخت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔