(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ "کسی بھی فلسطینی کو غزہ سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔” یہ بیان انہوں نے واشنگٹن میں آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیا۔
واشنگٹن میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال پر کہ آیا وہ فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں، ٹرمپ نے اپنے گزشتہ بیان رجوع کرتے ہوئے کہا کہ "کسی کو بھی غزہ سے نکالا نہیں جائے گا۔”
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرمپ اپنے اس خیال سے پیچھے ہٹ رہے ہیں جو غزہ کے عوام کی جبری ہجرت سے متعلق تھا، تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس موقف کو مکمل کرنے کے لیے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو جنگ بندی کے تمام معاہدوں پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے، انہوں نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ "انتہا پسند صیہونی نظریے” کے ساتھ ہم آہنگی سے گریز کریں۔
جبری ہجرت کی مخالفت:
25 جنوری سے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطینیوں کو غزہ سے مصر اور اردن جیسے قریبی ممالک میں ہجرت پر مجبور کرنے کے منصوبے کو فروغ دے رہے تھے، تاہم دونوں ممالک نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا۔ اس کے علاوہ، دیگر عرب ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اس منصوبے کی مخالفت کی۔
عرب ممالک کا مشترکہ منصوبہ:
بدھ کے روز، قطر، مصر، اردن، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ، نیز تنظیم آزادی فلسطین (PLO) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری جنرل نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے ساتھ ملاقات کی اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا، جو کہ ٹرمپ کی تجویز کے جواب میں دیا گیا تھا۔
مصر کا بیان:
مصری وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "عرب وزرائے خارجہ نے غزہ کی تعمیر نو کے اس منصوبے کو پیش کیا، جسے 4 مارچ 2025 کو قاہرہ میں ہونے والی عرب سربراہی اجلاس میں منظور کیا گیا تھا۔” مزید کہا گیا کہ اجلاس میں "امریکی ایلچی کے ساتھ مشاورت اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، تاکہ اس منصوبے کو بنیاد بنا کر غزہ کی بحالی کے اقدامات کیے جا سکیں۔”
غزہ کی صورتحال:
یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب غزہ شدید انسانی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں مسلسل فوجی جارحیت کے نتیجے میں امداد کی اشد ضرورت بڑھ گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ خطے میں ایک سنگین انسانی تباہی رونما ہو سکتی ہے۔ مصر نے متعدد مواقع پر ایک جامع سیاسی حل کی اہمیت پر زور دیا ہے، جو جنگ کے خاتمے، امداد کی بلا تعطل فراہمی، اور فوری تعمیر نو کے آغاز کو یقینی بنائے، تاکہ طویل المدتی استحکام ممکن ہو سکے۔