(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تعاون تنظیم نے آج ہفتہ کے روز جدہ میں اپنے ہنگامی وزارتی اجلاس کے اختتام پر غزہ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کا مقابلہ کرنے کے لیے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے بغیر غزہ کی تعمیر نو کے عرب منصوبے کی منظوری دے دی۔
تنظیم نے عالمی برادری اور بین الاقوامی و علاقائی مالیاتی اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس منصوبے کے لیے فوری مدد فراہم کریں تاکہ تمام کوششیں ایک سیاسی حل اور مستقل و منصفانہ حل کے قیام کے ساتھ ساتھ چمشروع کی جا سکیں اور فلسطینی عوام کی جائز امنگیں پوری ہوسکیں وہ اپنی آزاد ریاست میں امن اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے اجلاس کے دوران عرب لیگ کی غیر معمولی سربراہی اجلاس (4 مارچ، قاہرہ) میں منظور شدہ منصوبے کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصر فلسطینی حکومت اور اقوام متحدہ کے تعاون سے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرے گا، جس کا مقصد تعمیر نو کے اس منصوبے کے لیے عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنا اور بین الاقوامی نگرانی میں ایک امانتی فنڈ قائم کرنا ہے۔
وزارتی اجلاس، جو فلسطینی عوام کے خلاف جاری غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جارحیت اور ان کی جبری بے دخلی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کے لیے منعقد کیا گیا، نے اپنے اختتامی بیان میں فلسطینی عوام کے جبری انخلا کی تمام سازشوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ان کا سختی سے مقابلہ کرنے پر زور دیا۔ اسی طرح، اجلاس نے فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے صیہونی ریاست کی بھوک، اجتماعی سزا اور زمین کو تباہ کرنے کی پالیسیوں کی شدید مذمت کی۔
بیان میں قاہرہ میں بین الاقوامی تعمیر نو کانفرنس کے انعقاد کا خیرمقدم کیا گیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس میں شرکت کرے تاکہ غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کو تیز کیا جا سکے، جو غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جارحیت سے تباہ ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی مالیاتی اداروں اور عطیہ دہندگان کی مدد سے ایک امانتی فنڈ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی، تاکہ تعمیر نو کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
تنظیم نے غزہ میں یتیم بچوں کی کفالت کے لیے اقوام متحدہ کے تعاون سے ایک بین الاقوامی فنڈ کے قیام پر بھی زور دیا، تاکہ فلسطینی عوام کے صبر و استقامت کو مضبوط کیا جا سکے اور ان کے لیے زیادہ سے زیادہ انسانی امداد اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی تمام توسیع پسندانہ سرگرمیوں، بشمول زمینوں پر قبضے، جبری انضمام، یہودی بستیوں کی تعمیر، گھروں کی مسماری، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، اور فلسطینی شہروں اور کیمپوں پر فوجی حملوں کو روکا جائے۔ اس کے علاوہ، تنظیم نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے، بشمول مقبوضہ بیت المقدس، پر اپنی غیر قانونی بالادستی مسلط کرنے کی تمام کوششوں کی مذمت کی۔
مزید برآں، اسلامی تعاون تنظیم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور اس کے رہنماؤں کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات مکمل کرے۔ تنظیم نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا کہ وہ صیہونی ریاست پر پابندیاں عائد کریں تاکہ اسے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر مجبور کیا جا سکے۔
غزہ میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونروا) کے خلاف غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے حملوں کے بارے میں، اسلامی تعاون تنظیم نے صیہونی ریاست کے نسل پرستانہ اور غیر قانونی قوانین کو مسترد کر دیا، جو ایجنسی کے وجود کو ختم کرنے یا اس کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تنظیم نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اونروا کو مزید سیاسی، قانونی اور مالی مدد فراہم کریں۔
اسی طرح، اجلاس نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جیلوں میں قید ہزاروں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے جبری گمشدگی، بدترین تشدد، قید و بند، اور غیر انسانی سلوک کی مذمت کی۔ تنظیم نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں اور ان کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ایک آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔
بیان میں فلسطینی عوام کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، تاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد ہو سکے۔ مزید یہ کہ، تنظیم نے عالمی سطح پر امن قائم رکھنے کے لیے ایک بین الاقوامی تحفظاتی فورس کی تعیناتی کی تجویز دی، جس کا مقصد فلسطینی ریاست کے اداروں کی تعمیر اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر اس کی خودمختاری کو یقینی بنانا ہوگا۔
