(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) حماس کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈ نے ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے قیدی دکھائے گئے ہیں، جو مرحلہ اول میں رہائی پانے والوں کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ اس ویڈیو کا عنوان "یہ واقعی غیر انسانی ہے” رکھا گیا ہے۔ خاص طور پر دو اسرائیلی بھائیوں کا منظر نمایاں ہے، جہاں بڑے بھائی نے رہائی پانے والے اپنے چھوٹے بھائی کو گلے لگا کر رخصت کیا۔
چھوٹے بھائی نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "دوسرے اور تیسرے مرحلے پر دستخط کرو، سب کو رہا کرو، خاندانوں کو تقسیم نہ کرو، ہماری زندگیاں تباہ مت کرو۔” اس نے مزید کہا: "امی سے کہنا… ابو سے کہنا… سب کو کہنا کہ مظاہرے جاری رکھیں۔”
بڑے بھائی نے سوال کیا: "کیا تم میرے چھوٹے بھائی کو مرنے کے لیے چھوڑ دو گے؟”
القسام کی جانب سے جاری اس ویڈیو میں ایک اور اسرائیلی قیدی نے کہا: "میرا بھائی جا رہا ہے، لیکن میں یہاں رہوں گا… ہم سب یہاں رہیں گے… تم نے ایک سال اور چھ ماہ میں کیا کیا؟ کتنے مزید لوگوں کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ مرنے والا فلسطینی ہے یا اسرائیلی یا مسلمان… تم سب کو مارنا چاہتے ہو۔ بس، اب جنگ ختم کرو، معاہدے کے باقی مراحل پر دستخط کرو۔”
اس نے مزید کہا: "ہاں، کبھی میں کھاتا ہوں، کبھی پیتا ہوں، کبھی ٹھیک ہوتا ہوں، کبھی نہیں، لیکن یہاں (سر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) میں ٹھیک نہیں ہوں۔ حماس میرا خیال رکھ رہی ہے، لیکن بس، مجھے یہاں سے نکالو… سب کو نکالو، میں یہاں نہیں رہ سکتا۔”
"کافی ہو گیا نیتن یاہو، دستخط کرو… اگر تمہارے پاس دل ہے، اگر تمہارے اندر ذرا سی بھی انسانیت باقی ہے تو آج ہی دستخط کرو۔”
عائلتِ قیدی کی اپیل
ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے قیدی ایتان ہورن کے اہل خانہ نے نیتن یاہو حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو جاری رکھے۔ عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق، ہورن کے اہل خانہ نے اپنے بیان میں کہا:
"اس معاہدے کو مت روکو، جس نے ہمیں پہلے ہی درجنوں قیدی واپس دلا دیے ہیں۔ ان کا وقت ختم ہو چکا ہے۔”
بیان میں مزید کہا گیا:”ہمارا دل ٹوٹ جاتا ہے جب ہم ایطان کو اس مشکل صورتحال میں دیکھتے ہیں، وہ اپنے بھائی کو الوداع کہہ رہا ہے اور خود جہنم میں قید ہے۔””ہم ایطان کی آنکھوں میں جو خوف اور مایوسی دیکھ رہے ہیں، وہ ناقابلِ برداشت ہے۔”
جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا غیر یقینی مستقبل
آج ہفتہ کے روز غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا اختتام ہو رہا ہے، جو 42 دن پر محیط تھا۔ لیکن دوسرے مرحلے کے متعلق کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، کیونکہ نیتن یاہو معاہدے کے سیاسی پہلو کو نافذ کرنے سے گریزاں نظر آ رہا ہے، جس کے مطابق غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو غزہ سے مکمل انخلا، تعمیر نو کا آغاز، اور مستقل جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنے تھے۔
