(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ بیت المقدس: قابض اسرائیلی فوج کی سخت پابندیوں کے باوجود، ہزاروں فلسطینیوں نے رمضان المبارک کی پہلی رات، جمعہ کی شام، مسجد اقصیٰ میں نماز تراویح ادا کی۔
مسجد اقصیٰ کے صحن میں روح پرور مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں بڑی تعداد میں نمازیوں نے اجتماعی طور پر نماز تراویح ادا کی۔ حالانکہ قابض صہیونی حکام نے حسب روایت سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن کے تحت 55 سال سے کم عمر مردوں، 50 سال سے کم عمر خواتین اور 10 سال سے زائد عمر کے بچوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
رمضان المبارک کا آغاز
فلسطین میں رویت ہلال کمیٹی اور علماء کونسل نے چاند نظر آنے کے بعد رمضان المبارک کے آغاز کا باضابطہ اعلان کیا۔ مفتی اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطین کے اندر اور باہر موجود ماہرین فلکیات اور علماء کرام کی موجودگی میں چاند دیکھنے کے شرعی اصولوں پر مبنی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں یہ تصدیق ہوئی کہ رمضان کا چاند نظر آ چکا ہے۔ اس بنیاد پر ہفتہ، یکم مارچ 2025ء کو پہلا روزہ رکھا جائے گا۔
صہیونی ریاست کی سختیاں اور فلسطینیوں کا حوصلہ
دوسری جانب، قابض اسرائیلی حکام نے رمضان المبارک کے دوران فلسطینیوں پر مزید سختیاں مسلط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق، مسجد اقصیٰ میں عبادات کے دوران سکیورٹی پابندیاں مزید سخت کر دی جائیں گی۔
رمضان المبارک کے دوران لاکھوں فلسطینی مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے آتے ہیں، خاص طور پر نماز جمعہ اور نماز تراویح کے لیے یہاں وسیع اجتماع دیکھنے میں آتا ہے۔ تاہم، اسرائیلی فوج اور پولیس منظم طریقے سے فلسطینی نمازیوں کو قبلہ اول تک پہنچنے سے روکنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے، جن میں طاقت کا استعمال اور دیگر ظالمانہ اقدامات شامل ہیں۔
