(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) بدھ کی شام قابض صیہونی فوج کی گولیوں کا نشانہ بننے سے قلقیلیہ میں ایک 16 سالہ فلسطینی بچہ شہید ہو گیا، جبکہ دو ماہ قبل طولکرم میں صیہونی بمباری کے دوران زخمی ہونے والا ایک نوجوان بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔
فلسطینی ہلال احمر کے مطابق، ان کی طبی ٹیموں نے مقبوضہ بیت کے شہر قلقیلیہ میں ایک 16 سالہ بچے کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا، جسے سر میں براہ راست گولی ماری گئی تھی۔ طبی عملے نے دل اور پھیپھڑوں کو متحرک رکھنے کی کوشش کی، لیکن زخموں کی شدت کے باعث وہ شہید ہو گیا۔
حالات و واقعات کی تفصیلات فراہم کیے بغیر، ہلال احمر نے بتایا کہ یہ واقعہ قلقیلیہ کے شمالی داخلی راستے پر پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں کے مطابق، بچہ صیہونی فوج اور فلسطینی شہریوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران گولیوں کا نشانہ بنا۔ زخمی حالت میں اُسے درویش نزال اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں کچھ دیر بعد اس کی شہادت کا اعلان کر دیا گیا۔
طولکرم میں زخمی فلسطینی نوجوان کی شہادت
دوسری جانب، فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، عبدالرحمٰن خالد نواس نامی نوجوان، جو دو ماہ قبل طولکرم کے نور شمس کیمپ پر قابض صیہونی ریاست کے فضائی حملے میں زخمی ہوا تھا، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔
قابض صیہونی فوج کے وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں مغربی کنارے میں شہداء کی تعداد 926 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ تقریباً 7,000 فلسطینی زخمی اور 14,500 کو صیہونی جیلوں میں قید کیا جا چکا ہے۔ ان مظالم کا آغاز اس وقت ہوا جب صیہونی ریاست نے غزہ میں اپنی نسل کشی کی جنگ کا آغاز کیا تھا۔
شہید فلسطینی بچے کی تدفین
شہید حامد نزال کی نماز جنازہ قلقیلیہ میں ادا کی گئی، جس کے بعد ہزاروں سوگواروں نے ان کی تدفین میں شرکت کی۔ صیہونی فوج کی مسلسل جارحیت کے خلاف فلسطینی عوام غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی اس مظلوم قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
