(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میںغیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جاری جارحیت اور موسم سرما کی سختیوں کے درمیان فلسطینی عوام کی حالت زار بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ حالیہ طور پر ایک نئے کم دباؤ کے نظام اور قطبی ہواؤں کے باعث غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی پناہ گاہیں متاثر ہو گئی ہیں۔ شدید بارشوں کی وجہ سے درجنوں خیمے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔
شدید سردی اور بارش میں غزہ کے عارضی گھروں میں رہائش پذیر فلسطینی خاندانوں، جن میں بچے اور بزرگ شامل ہیں، کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کی بیشتر ضروری اشیاء جیسے کپڑے، کمبل اور بستر خراب ہو گئے ہیں، اور ان خاندانوں کو سخت سردی میں رات گزارنی پڑی۔
غزہ میں فلسطینی عوام کو امداد کی شدید کمی کا سامنا ہے، اور غاصب صیہونی ریاست اسرائیل نے انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال رکھی ہے، جس کی وجہ سے 60,000 متبادل رہائش گاہیں یا "کرفان” غزہ میں نہیں پہنچ پائے ہیں۔ فلسطینی خاندانوں کی اکثریت ان خیموں میں رہ رہی ہے، جن کی حالت خراب ہے اور وہ سردی، بارش اور طوفانی ہواؤں سے بچاؤ کی سہولت فراہم نہیں کرتے۔ مقامی حکام اور امدادی ادارے ان مشکلات کا حل نکالنے میں ناکام ہیں، اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امداد کی فراہمی کو روکا جانا بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
غزہ کی پٹی میں اس صورتحال نے زندگی کو ایک نیا عذاب بنا دیا ہے۔ متعدد فلسطینی خاندان جو اسرائیل کی جنگی کارروائیوں میں اپنے گھر بار سے محروم ہو چکے ہیں، اب ان قدرتی آفات کے سامنے بے بس ہیں۔ سردیوں میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے، ان کی زندگیوں میں مزید مشکلات اور بیماریوں کا سامنا ہو رہا ہے، خصوصاً بچوں میں سردی سے پیدا ہونے والی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے امدادی سامان کی فراہمی میں تاخیر اور رکاوٹوں کے باعث ان کی حالت مزید ابتر ہو گئی ہے۔