(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں شہری دفاع کے ادارے کے ترجمان محمود بصل نے انکشاف کیا ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی غزہ پر جاری گذشتہ تقریباً 16 ماہ سے جاری دہشتگردی اور نسل کشی کی کارروائیوں کے نیتجے میں فلسطینی غزہ میں "انتہائی انسانیت سوز حالات” کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں لاکھوں افراد بے گھر ہوکر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن کے پاس زندگی کی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں ہیں، اسرائیل کی جانب سے جاری نسل کشی کی وجہ سے جو ہے۔
انہوں نے کہا کہ "غزہ میں کھلے آسمان تلے رہنے والے شہری مختلف موسمی تغیرات کا سامناکررہے ہیں ، جو لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں اور سخت سردی اور شدید بارشوں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔”
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ "اسرائیلی بمباری کے باقیات اب بھی سڑکوں پر، ملبے اور تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے پھیل کر شہریوں، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کی زندگیوں کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔”
غزہ میں انسانیت سوز صورتحال کو قابو کرنے کیلئے فلسطینی رہنماؤں نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے، اور فوری طور پر امدادی کارروائیاں فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ہزاروں فلسطینیوں کی جانوں کو بچایا جا سکے جو بے گھر اور غیر محفوظ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں میں، غزہ اور شمالی علاقے میں واپس آنے والے فلسطینی پناہ گزین انتہائی تکلیف دہ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں کچھ لوگ کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں، جبکہ کچھ دیگر تباہ شدہ مساجد اور اسکولوں میں پناہ لے رہے ہیں، جیسا کہ غزہ میں حکومتی میڈیا آفس نے رپورٹ کیا۔