(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں خان یونس اور جبالیہ کیمپ میں صہیونی جنگی قیدیوں کے تبادلے کی دو کارروائیاں فلسطینی عوام کے عزم اور مزاحمت کی حمایت کا مظہر ہیں۔ اس میں فلسطینی عوام کا اجتماع دونوں علاقوں میں اسرائیلی فاشزم کے ملبے کے درمیان، آزادی، حق واپسی اور خود ارادیت کے حصول کے لیے ان کے پختہ ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ حماس نے اس موقع پر اس بات کا اعادہ کیا کہ فلسطینی عوام اپنی سرزمین پر قائم رہیں گے اور اپنی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
حماس کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈز نے تیسری کھیپ کے دوران اسرائیلی فوجی اگام بیرگر کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا، جو جبالیہ کے ملبے سے نکالا گیا تھا۔ اسی طرح، القدس بریگیڈز نے دو قیدیوں اربیل یہود اور گادی موزیز کو خان یونس میں حماس کے شہید رہنما یحییٰ السنوار کے تباہ شدہ گھر کے سامنے حوالہ کیا۔ دونوں کارروائیوں میں بڑی تعداد میں فلسطینی شہریوں نے شرکت کی، اور اس موقع پر فلسطین کے جھنڈے اور نقشے نے فلسطینی عزم اور مزاحمت کی علامت کے طور پر اہمیت حاصل کی۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ تبادلے کے عمل میں مزاحمت کی طاقت اور تنظیم کی اعلیٰ صلاحیت کا اظہار ہوا ہے، جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ یہ کارروائیاں نہ صرف فلسطینی مزاحمت کی یکجہتی کا پیغام دیتی ہیں بلکہ اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فلسطینی عوام اپنی سرزمین پر مزاحمت جاری رکھیں گے اور آزادی کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ حماس نے اس کے ساتھ ہی کہا کہ وہ قابض اسرائیلی فوج کی جیلوں سے بہادر قیدیوں کی رہائی کی اگلی کھیپ کا منتظر ہے۔