(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیل کی اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعظم یائر لاپید نے کہا کہ "غزہ کے شمالی علاقے میں فلسطینیوں کی واپسی اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے زیر انتظام سرحدی علاقے میں آباد کاروں کی واپسی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نیتن یاہو کی قیادت میں موجودہ حکومت مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے۔
” لاپید نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ "غزہ کے رہائشیوں کا اپنے گھروں کو واپس جانا اور مشرقی علاقے کے بے گھر گھر اسرائیلی ہائشیوں کا اپنے گھروں کو واپسی نہ کرنا، یہ اس بات کا دردناک ثبوت ہے کہ یہ حکومت ملک کو صحیح طریقے سے چلانے میں ناکام ہے۔”
انھوں نے کہا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی حکومت نے غزہ کے ارد گرد واقع آباد کاریوں میں رہنے والے آباد کاروں کو اپنی بستیاں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، حالانکہ تقریباً دو ہفتے قبل جنگ بندی معاہدہ نافذ ہو چکا تھا۔ اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران غزہ کے قریب آباد کاریوں سے ہزاروں آباد کاروں کو اپنے گھروں سے نکالنے کا حکم دیا تھا اور وہ اس وقت اسرائیلی حکومت کے خرچے پر ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں رہائش پذیر ہیں۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت، 19 جنوری 2025 کو اسرائیلی فوج نے غزہ کے شمال میں نتصاریم راہداری سے انخلا کر لیا، جس سے فلسطینی مہاجرین کو واپس جانے کا موقع ملا۔ معاہدہ تین مراحل میں مکمل ہوگا اور اس میں قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل ہے۔
اسرائیلی حکومت نے 7 اکتوبر 2023 سے 19 جنوری 2025 تک غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی، جس کے نتیجے میں 159,000 سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں 14,000 سے زائد فلسطینی ابھی تک لاپتہ ہیں۔
ایک حالیہ سروے میں 86 فیصد اسرائیلی شہریوں نے کہا کہ وہ غزہ کے سرحدی علاقوں میں آباد کاریوں میں دوبارہ نہیں رہنا چاہتے جب تک جنگ کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ 27 فیصد اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ "غزہ میں اسرائیل نے جنگ جیت لی”، جبکہ 35 فیصد کا ماننا ہے کہ اسرائیل نے اس جنگ میں شکست کھائی ہے۔
