(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی مزاحمتی رہنما نے بتایا کہ آئندہ ہفتے کو ہونے والے متوقع صیہونی ریاست کے قیدیوں کے تبادلے کے لیے مزاحمتی قوتوں کی تیاری جاری ہے، جو ایک معاہدے کے مطابق عمل میں لایا جائے گا۔
اپنا نام نا ظاہر کرنے والے رہنما نے انکشاف کیا کہ حماس چار اسیرات کو رہا کرے گی، جن میں ممکنہ طور پر شہری خواتین اور فوجی شامل ہوں گی، اور بدلے میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل ایک تعداد میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گی۔ انہوں نے مزید وضاحت دی کہ اگر حماس تین فوجی خواتین کو رہائی دیتی ہے تو اسرائیل 90 قیدیوں کو رہا کرے گا جنہیں عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر رہائی پانے والے قیدیوں کو فلسطین سے باہر بھیج دیا جائے گا اور مختلف ممالک میں منتقل کیا جائے گا۔
اس سے قبل، وقفِ فائر کے معاہدے کے نفاذ کے بعد حماس نے تین اسرائیلی اسیرات کو رہا کیا تھا، اور بدلے میں اسرائیل نے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔ یہ تبادلہ 20 جنوری کو ہوا تھا، جس میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل تھے، جن میں سے 76 قیدی مغربی کنارے سے تھے اور 14 القدس سے۔ 19 جنوری کو غزہ میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ نافذ ہوا، جس سے غزہ پر 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کے حملوں کا خاتمہ ہوا، جن کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہید، زخمی اور لاپتہ ہوئے اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا گیا۔
