(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں اسرائیلی فوجیوں کے درمیان خودکشی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2011 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔
2024 میں 21 اسرائیلی فوجیوں نے خودکشی کی، جب کہ 2023 میں یہ تعداد 17 تھی۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ اضافہ اس لیے ہوا ہے کیونکہ جنگ کے آغاز کے بعد بڑی تعداد میں فوجیوں کو ریزرو سروس کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
اس رپورٹ کے مطابق، خودکشی فوجیوں کی اموات کی دوسری سب سے بڑی وجہ بنی، جس کے بعد پہلی جگہ جنگی آپریشنز کی اموات کا ہے۔ 2023 اور 2024 میں مجموعی طور پر 807 فوجی جنگی کارروائیوں میں مارے گئے۔ 2024 میں یہ تعداد 295 تھی، اور اسرائیلی فوج نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے نفسیاتی اثرات فوجیوں کی حالت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، خاص طور پر وہ ریزرو فوجی جو طویل عرصے کے بعد واپس لائے گئے ہیں۔
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج نے جنگ کے دوران فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کو مزید بڑھایا ہے، جس کے نتیجے میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک محصور شہر غزہ میں 150,000 سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، اور بنیادی انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔