(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں گزشتہ دو دنوں کے دوران بارش کے پانی نے تقریباً 1,542 خیموں میں رہائش پذیر افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔ ان میں سے کئی افراد شدید سردی کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں صیہونی ریاستی دہشتگردی کا سامنے کرنے والے نہتے فلسطینیوں کے مصائب مزید بڑھ گئے ہیں۔
فلسطینی سول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جاری نسل کشی کی جنگ کے دوران، یہ بارشیں بے گھر فلسطینیوں کے لیے مزید مشکلات کا سبب بن رہی ہیں۔ ان خیموں میں رہائش پذیر لوگوں کو سردی سے بچاؤ کے لیے کوئی مناسب انتظامات نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حالت بدتر ہو گئی ہے۔
سول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ کے میڈیا آفس نے کہا کہ ریسکیو ٹیموں نے 30 سینٹی میٹر سے زائد بارش میں ڈوبنے والے سینکڑوں خیموں کی نگرانی کی۔ ان ٹیموں نے بے گھر افراد کو "سردی سے کانپتے” ہوئے دیکھا، اور ان کے سامان و فرنیچر کو بھی بارش کے پانی نے نقصان پہنچایا۔ غزہ شہر میں، شہری دفاع نے یرموک اسٹیڈیم اور غزہ میونسپلٹی پارک میں قائم دو کیمپوں میں 242 خیموں کے ڈوبنے کی اطلاع دی، جبکہ سرایا کمپلیکس میں 185 خیمے اور شجاعیہ پارکنگ لاٹ میں 70 خیمے ڈوب گئے۔
غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے میں بھی شدید بارش نے تباہی مچائی، جہاں رفح شہر میں "فیش فارش” آرام کے علاقے کے قریب 170 خیمے ڈوب گئے، اور خان یونس میں 665 سے زائد خیمے تباہ ہو گئے۔ اس کے علاوہ، اقصیٰ یونیورسٹی اور "اسداء جیل” کے قریب کے علاقوں میں بھی ہزاروں فلسطینیوں کی پناہ گاہیں بارش میں بہہ گئیں۔ سول ڈیفنس کے مطابق، دیر البلاح اور "البرکہ” کے علاقوں میں بھی 210 خیمے پانی میں ڈوب گئے، اور کئی دیگر خیموں میں بارش کا پانی داخل ہو گیا، جو کہ 30 سینٹی میٹر سے کم تھا، لیکن پھر بھی ان کی رہائش کی حالت کو مزید خراب کر رہا تھا۔
غزہ میں شدید بارش سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ
منگل کی شام، غزہ میں فلسطینی علاقوں سے ٹکرانے والے ایک ڈپریشن کے بعد، بارش اور ٹھنڈی ہوا کے ساتھ موسم میں شدید سردی آئی، جس کے اثرات بے گھر فلسطینیوں پر پڑے۔ سرکاری میڈیا آفس نے خبردار کیا تھا کہ اس موسم کی شدت بے گھر افراد کے لیے سنگین ہو سکتی ہے، جن کی 81 فیصد خیمے اس بارشوں کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ پیر کے روز، فلسطینی حکام نے اعلان کیا کہ اسرائیل کی جانب سے گھروں کو تباہ کرنے کے بعد خیموں میں پناہ گزین فلسطینیوں میں مزید 7 اموات ہو چکی ہیں، جن میں 6 بچے شامل ہیں۔ ان اموات کی بنیادی وجہ شدید سردی اور پناہ گاہ کی کمی تھی۔