(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیلی چینل "القناة 12” نے رپورٹ کیا کہ تقریباً ایک سال قبل، ایک اسرائیلی فوجی دستہ نے نوعا ارغمانی کو آزاد کرنے کے لیے ایک کارروائی شروع کی تھی، جو پچھلے جون میں آزاد ہو گئی تھی۔ تاہم، فوجی دستہ نے بعد میں یہ دریافت کیا کہ جو معلومات انہیں موصول ہوئی تھیں، وہ غلط تھیں۔
تفصیلات کے مطابق، اسرائیلی فوجی جب عمارت تک پہنچے اور داخلی دروازہ کھولا، تو اس دوران مزاحمت کرنے والے افراد نے شدید فائرنگ کی۔ اس اچانک حملے کے نتیجے میں، خصوصی فوجی دستے کے کئی اہلکار شدید زخمی ہو گئے، اور کارروائی کو فوراً زخمیوں کے انخلاء میں تبدیل کر دیا گیا۔
"القناة 12” کے مطابق، جب اسرائیلی فوجی دستہ واپس آیا، تو فوجی انٹیلی جنس ادارے (آمان) کو نئی معلومات موصول ہوئیں، جن کے مطابق وہ شخص جسے فوجی دستہ نے آزاد کرنے کی کوشش کی تھی، نوعا ارغمانی نہیں بلکہ سہیر باروخ تھا، جو اپنے گھر سے پکڑا گیا تھا۔
