• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

یروشلم کا اطلاق موجودہ القدس پرنہیں ہوتا:عراقی محقق

پیر 30-08-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_al-aqsa-mosque26

عراق کے ایک جغرافیادان اور محقق فاضل الربیعی نے کہا ہےکہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی شہر مقبوضہ بیت المقدس کو مقدس آسمانی کتاب "توراة” میں بیان کردہ یروشلم شہر قرار دینے کا فلسفہ غلط ہے. اپنی ایک تازہ کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ ” ایک ہی شہر کے دو نام ایک وقت میں تاریخ میں نہیں ملتے. توراة میں کہیں بھی فلسطینی شہر یا القدس کا نام نہیں، جس کی بنیاد پریہ دعویٰ کرنا کہ یروشلیم ہی القدس کا دوسرا نام ہے ایک غلط سوچ کی عکاسی کرتا ہے” ربیعی نے الزام عائد کیا ہے کہ مورخین اور علماء آثار قدیمہ بالخصوص توراتی تاریخ پر عبور رکھنے والے اہل علم حقائق کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں. القدس کےسلسلے میں عبرانی زبان میں الفاظ کو غلط معنوں میں لیا جاتا ہے. توراة میں بیت المقدس کا نام "القدس” نہیں بلکہ "قدش قدس” ہے. اس کے علاوہ اس کا یہ تعین کہیں نہیں ملتا کہ آیا یہ فلسطین ہی کا شہر ہے یاکسی دوسرے ملک کا علاقہ ہے. عراقی عالم دین کا کہنا ہے کہ توراة کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ "قدش قدس” کا اطلاق ایک بلند اور ایسے پہاڑے مقام پر ہوتا ہے جس کے ارد گرد وادیاں ہوں . اس میں صرف ایک اونچا پہاڑ ہے جسے جبل القدس کے نام سے جانا جاتا ہے اور وہ بھی شہر کے انتہائی جنوب میں تعز کےمقام پر ہے. فاٰضل الربیعی کہتے ہیں کہ بابلی دور میں یروشلم جن دیواروں کی تعمیر و مرمت کا تاریخ میں تذکرہ ملتا ہے . تاریخ میں ان دیواروں کا بھی القدس کی دیواروں سے ربط نہیں ملتا، کیونکہ یمن کی معروف اور قدیم تاریخ میں یہ دیواریں یمنی قبائل نے تعمیر کی تھیں اور یہ فلسطین کے بجائے یمنی حدود میں تھیں. عراقی مورخ کا کہنا ہے فلسطین کو”ارض توراة” کا نظریہ مغربی مستشرقین کی اختراع ہے. ورنہ عملی طور پر فلسطین اور تورات مقدس میں بیان کردہ ارض مقدس یا یروشلم کا القدس سے کوئی تعلق نہیں.القدس کو یروشلم قرار دینے پرانہوں نے یہودیوں اور جدید دور کی صہیونی تحـریک کو ذمہ دار ٹھہرایا. وہ لکتھے ہیں کہ یہ صہیونیوں اور یہودیوں کی ایک مکارانہ چال ہے کہ وہ فلسطین ہی کو ارض موعود یا سرزمیں مقدس قرار دیتے ہیں.

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.