• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

پاکستان میں عباس حکومت کے سفیر کے ہاتھوں فلسطینی کی سی آئی اے سپردگی کا انکشاف

پیر 09-08-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_palestinian-citizen-samir

پاکستان میں مغربی کنارے کی غیر آئینی فلسطینی حکومت کے سفیر نے ’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ میں تعاون کے نام پر امریکی خفیہ ایجنسی کے لیے جاسوسی کرنا شروع کر دی، حالیہ انکشاف کے مطابق فلسطینی سفارت کار نے سنہ 2003ء میں پاکستان میں موجود ایک فلسطینی ’’سامر برق‘‘ کو سی آئی اے کے ایجنٹوں کو سپرد کیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق رام اللہ میں قائم فتح حکومت اور اسرائیلی فوج کے درمیان امن تعاون صرف فلسطین تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں قائم فلسطینی سفارت خانے کے بارے میں انتہائی گھناؤنے انکشافات کے مطابق فلسطینی حکومت طویل عرصے سے پاکستان میں قائم اپنے سفارت خانے کو امریکا کے لیے جاسوسی کے لیے استعمال کر رہی ہے باوثوق ذرائع نے سامر برق نامی فلسطینی شہری، جس کے خاندان نے ایک ماہ قبل اردن کے حکام پر اسے اسرائیل کے سپرد کرنے کا الزام لگایا تھا، کے بارے میں نئی معلومات کا انکشاف کیا ہے جس کے مطابق برق کی اسرائیل سپردگی میں عباس کی غیر آئینی فلسطینی حکومت کے جاسوس ’’حسام عقاد‘‘ نے خصوصی کردار ادا کیا ہے۔ عقاد نے ان سے تعلقات بڑھائے اور محسوس کیا کہ وہ مسئلہ فلسطین پر کام کر رہے ہیں چنانچہ اس نے پاکستانی سفارت خانے میں برق کی ملاقات کا بندوبست کیا، یہ ساری کارروائی سی آئی اے کے ایجنٹوں کی نگرانی میں ہو رہی تھی، چنانچہ اس دوران سی آئی اے نے انہیں گرفتار کر کے اردن منتقل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق عباس کی خفیہ ایجنسی نے اسرائیلی ریاست کو یہ باور کرایا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطین میں القاعدہ تنظیم کو توڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ کہ ’’سامر برق‘‘ اس گروپ میں کام کرتا ہے جس کے پاس ایٹمی مواد اور بائیو کیمکل اسلحہ کی تیاری کی خفیہ معلومات موجود ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ عباس حکومت کے اسلام آباد میں سفارت خانے میں مشتبہ جاسوس کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی ہوں، یہ سلسلہ غزہ سے عباس ملیشیا کے اخراج کے بعد سے شروع ہے۔ سیکڑوں دستاویز اس بات کا ثبوت فراہم کر چکی ہیں کہ ’’فتح‘‘ کی فلسطینی حکومت کے عہدیدار پاکستان میں جاسوسی کرتے رہے ہیں جن میں سب سے اہم اسرائیلی خفیہ تنظیم موساد کے لیے پاکستانی ایٹمی پروگرام کی معلومات جمع کرنا ہے۔ 2005ء میں پاکستانی خفیہ ایجنسی نے عباس حکومت کے جاسوس ’’حسام عقاد‘‘ کو گرفتار کیا تھا جن کے بارے میں ثابت ہو گیا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور ’’القاعدہ‘‘ تنظیم کےبارے میں معلومات جمع کی ہیں، اس وقت فلسطین کے صدر محمود عباس نے مداخلت کرکے ان کی رہائی کی اپیل کی جسے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے مسترد کر دیا، تاہم اسے تین ماہ حراست میں رکھ کر ملک بدر کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ سنہ 2008ء میں بھی متعدد عرب ذرائع ابلاغ عباس حکومت کے سفارت خانے کی جانب سے فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کے معاونین اور عرب سفارت خانوں کی معلومات جمع کرنے کی رپورٹیں شائع کرتے رہے ہیں۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.