• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

’’فتح‘‘ حکومت نے مزاحمتی جنگ کو دینی لڑائی میں تبدیل کردیا: ابو زھری

اتوار 08-08-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_dr-sami-abu-zuhri-hamas-spokesman3

اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابوزھری نے کہا ہے کہ عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق رام اللہ کی غیر آئینی حکومت اور اسرائیل کے مابین اذان کی آواز پر پابندی پر اتفاق رائے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ فتح نے مزاحمتی تحریک کو دینی بنیادوں پر لڑی جانے والی جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے غاصب یہودیوں کے آرام میں خلل کو مدنظر رکھتے ہوئے لاؤڈ اسپیکر پر اذان پر لگائی جانے والی پابندی کی شدید مذمت کی۔ ابو زھری نے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کو دیے گئے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل اور ابو مازن کی حکومت کے درمیان حالیہ اتفاق رائے سے واضح ہو گیا کہ فتح اور حماس کے مابین اختلاف صرف مزاحمتی پالیسی نہیں رہا بلکہ صہیونی ریاست کی خدمت کی بنا پر یہ دینی مخالفت بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ صرف اذان کی آواز دبانے تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ رام اللہ حکومت اپنے وزارت اوقاف کے ذریعے سے دین اسلام کے خلاف متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس ضمن میں کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، مساجد کے آئمہ، موذنین، خطباء اور دیگر عملے کی بڑی تعداد کو نوکریوں سے محروم کیا گیا، انہیں کام کرنے سے روک دیا گیا، مغربی کنارے میں ہزاروں مساجد کو آئمہ کرام، موذنین اور متولیوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ سامی نے کہا کہ جس بھی امام مسجد کو برطرف کیا جاتا ہے اس کی جگہ نیا امام بھرتی نہیں کیا جاتا۔ اور اگر کسی کو نیا امام مقرر کربھی لیا جائے تو وہ ایسا شخص ہوتا ہے جس نے دینی علوم حاصل ہی نہیں کیے ہوتے، اسے شرعیت کا ذرہ بھر علم نہیں ہوتا، فتح حکومت کا مقصد مساجد کو علماء اور مبلغین سے خالی کر کے جاہل اور دینی علوم سے بے بہرہ افراد کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہے، نئے امام مقرر کیے جانے لوگ وہ ہیں جن کی گواہی بھی قبول نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے ہم مزاحمت مخالف کے خلاف ہی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ دین اسلامی کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.