رام اللہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی حکومت نے غزہ کی پٹی میں 30 مارچ ’یوم الارض‘ کے موقع پر اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 17 نہتے مظاہرین کے قتل عام کے معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی ریاست کے جرائم پر نظر رکھنے کے ذمہ دار ادارے نے فیصلہ کیا ہے کہÂ وہ عن قریب عالمی عدالت انصاف میں ایک درخواست دائر کرے گی جس میں تیس مارچ کو’یوم الارض‘ کے موقع پر اسرائیلی ریاست کے وحشیانہ جرائم اور اس کے نتیجے میں 17 فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے معاملے کی تحقیقات کی درخواست دی جائے گی۔’عربی الجدید‘ ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق ’الحق فاؤنڈیشن‘ نامی ایک تنظیم کے سربراہ شعوان جبارین جو فلسطینی خصوصی کمیشن برائے فالوپ اپ اسرائیلی جرائم کے رکن بھی ہیں کا کہنا ہے کہ کمیشن جلد ہی عالمی عدالت انصاف میں ایک درخواست دائر کرے گا جس میں فلسطینی مظاہرین کے قتل عام کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے لیے دی جانے والی درخواست میں غزہ میں واپسی مارچ پر اسرائیلی فوج کے حملے اور دیگر واقعات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
جبارین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کے حملے میں 17 معصوم فلسطینیوں کی شہادت، ڈیڑھ ہزار کا زخمی ہونا اور اسرائیلی فوج اور سیاسی لیڈر شپ کے غزہ کے عوام کے خلاف بیانات کو اسرائیلی ریاست کے خلاف دائر کردہ درخواست میں شواہد کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ 30 مارچ 2018ء بہ روز جمعۃ المبارک کو اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں ’حق واپسی‘ کے لیے احتجاجی مظاہرے کرنے والے فلسطینیوں پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 17 مظاہرین شہید اور 15 سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
