مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) قبلہ اوّل کے امام وخطیب الشیخ عکرمہ صبری نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں پُرامن ’واپسی مارچ‘ پر اسرائیلی فوج کے حملے اور نہتے مظاہرین کے قتل عام کو اسرائیل کے جنگی جرائم کے ثبوت کے طور پر پیش کریں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں 30 مارچ کو ’یوم الارض‘ کے موقع پر اسرائیلی فوج نے کھلم کھلا ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے غزہ میں مظاہرین کے قتل عام کو عالمی عدالت انصاف میں اسرائیلی ریاست کے جرائم کے طور پر پیش کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں یوم الارض کے موقع پر فلسطینیوں کے احتجاج کے موقع پر اسرائیلی فوج نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں 16 معصوم شہری شہید اور 1500 زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ فلسطینی قوم کے خلاف اسرائیلی ریاست کے جرائم اور اجتماعی قتل عام کے واقعات میں ایک نیا اضافہ ہے۔
الشیخ عکرمہ صبری نے غزہ میں پُرامن مظاہرین کے قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ نہتے فلسطینیوں پر گولیاں چلانے اور بے گناہوں کا خون بہانے کے واقعے کو اسرائیل کے ریاستی مظاہم اور جرائم کے ثبوت کے طورپر پیش کیا جائے۔
