بیت لحم (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) سن 1948ء میں فلسطین پر قبضے کے دوران ایک فلسطینی صحافی نے پورے گاؤں کو صہیونی ٹولیوں کے قبضے میں جانے سے بچا لیا۔ اس صحافی نے جو طریقہ اختیار کیا وہ شاید کسی زیرک ترین جنگی منصوبہ ساز کے
دل میں بھی کبھی نہیں آیا ہو گا۔
فلسطین کے شہر بیت لحم کا مضافاتی گاؤں ” بتیر” ان دیہات میں شامل تھا جس کے باسی پڑوسی علاقوں میں ہونے والے قتل عام سے ڈر کر ہجرت کر گئے تھے۔ تاہم فلسطینی صحافی حسن مصطفى مذکورہ گاؤں میں ہی رہا۔ وہ روزانہ شام کو خالی گھروں میں جا کر وہاں تیل کے لیمپ روشن کرتا۔ اس کے نتیجے میں صیہونی عناصر نے گمان کیا کہ بتیر کے رہنے والے چوکنا اور مسلح ہیں۔ اس طرح یہ گاؤں 1948ء میں قبضے سے محفوظ رہا۔
