مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل میں متعین امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈ مین نے گذشتہ روز صیہونی آباد کاروں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا اور دیوار براق میں داخل ہو کر تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر نے دیوار براق میں داخل ہو کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنا سیاسی اور سفارتی کردار ادا کرنے کے بجائے صیہونیوں کے موقف کی کھلم کھلا حمایت کررہےہیں۔فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈیوڈ فریڈ مین نے صیہونیوں کے ہمراہ تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات کی ادائیگی اور قبلہ اوّل پر دھاوے یہ ظاہر کرتا ہے وہ کھلم کھلا اسرائیل کے طرف دار ہیں۔ وہ خود کو اسرائیلی انتہا پسند حکومت اور پسند گروپوں کا حصہ ثابت کررہے ہیں جو فلسطینی قوم کے مقدسات اور قوم کے خلاف کھلی اشتعال انگیزی کا مرتکب ہیں۔
فلسطینی سیاسی اور مذہبی حلقوں نے اسرائیل میں متعین امریکی سفیر کی دیوار براق میں تلمودی تعلیمات کی ادائیگی کو مذہبی اشتعال انگیزی سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد اور زندہ ضمیر دنیا کو امریکی سفیر کی صیہونی نسل پرستی کی حمایت کرنے کا نوٹس لینا چاہیے۔ اسرائیل میں امریکی سفیرنے خود کو ایک غیر جانب دار شخصیت کے بجائے صیہونیوں اور ان کے جرائم کا طرف دار ثابت کیا ہے۔
فلسطینی وزارت مذہبی امور کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مذہبی آزادیوں اور عبادت کی آزادی کے حقوق کا یہ مطلب قابض اسرائیلی ریاستÂ اور اس کی نسل پرستانہ پالییسوں کی حمایت نہیں ہونی چاہیے۔ امریکی سفیر کا اقدام فلسطینی قوم کے فرزندوں کے خلاف اعلانیہ اشتعال انگیزی ہے۔
