غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی جہاد نے جماعت کے سیکرٹری جنرل رمضان شلح پر قاتلانہ حملے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہا ہے کہ اس طرح کی خبریں دشمن کو فائدہ پہنچانے اور جماعت کے کارکنوں میں بے چینی پیدا کرنے مذموم کوشش ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسلامی جہاد کے رہنما احمد المدلل نے کہا کہ جماعت کے سیکرٹری جنرل رمضان شلح کچھ عرصے سے علیل ہیں۔ انہیں قاتلانہ حملے کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ادھر اسلامی جہاد کے مرکزی دفتر سے جاری ایک بیان میں بھی رمضان شلح پر قاتلانہ حملے سے متعلق شائع ہونے والی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر رمضان عبداللہ شلح پر کسی قسم کا حملہ نہیں کیا گیا تاہم وہ کچھ دنوں سے علیل ہیں۔ حال ہی میں ان کے دل کی سرجری بھی کی گئی ہے جس کے بعد ان کی حالت کافی بہتر ہے۔ تاہم وہ کچھ روز تک مزید اسپتال میں رہیں گے۔
خیال رہے کہ رمضان شلح کو دل کی تکلیف کے باعث چند ہفتے قبل لبنان کے صدر مقام بیروت میں ’الرسول الاعظم‘ اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ جہاں سرجری کے بعد یہ اطلاعات آئی تھیں کہ وہ کومے میں ہیں۔ لبنان منتقلی سے قبل وہ دمشق میں تھے۔ ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے رمضان شلح کے بارے میں خطرناک اشارے دیے ہیں اور کہا ہے کہ وہ صحت یاب ہونے کے بعد بھی کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
ادھر بعض ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ رمضان شلح کو اسرائیل کے بدنام زمانہ خفیہ ادارے’موساد‘ کے جاسوسوں نے زہر دی تھی جس کے باعث ان کی حالت خراب ہوگئی تھی۔Â وہ سنہ 1995ء سے اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر چلے آرہے ہیں۔ ان کے پیش رو فتحی الشقاقی کو اسرائیل نے سنہ 1995ء میں مالٹا میں ایک قاتلانہ حملے میں شہید کردیا تھا۔
