فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بیت المقدس میں انسانی حقوق کی صورت حال کے لیے قائم اقوام متحدہ کے دفتر ’اوچا‘ نے بھی کھل کر اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کے بجائے ’منافقانہ‘ طرز عمل اختیار کیا ہوا ہے۔ اس ادارے کی طرف سے جہاں اسرائیل کو یہ مشورہ دیاجا رہا ہے کہ وہ پُرامن فلسطینی مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرے تو ساتھ ہی یہ باور کرانے کی بھی پوری کوشش کی جا رہی ہےکہ فلسطینی مظاہرین بھی احتجاج کے دوران بعض پُر خطرذرائع کا استعمال کررہے ہیں۔
’اوچا‘ کی اس دوغلی پالیسی سے فلسطینی قوم میں بھی اس کے خلاف سخت غم وغصے کی فضاء پائی جا رہی ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بھی اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ غزہ کی مشرقی سرحد پر احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو طاقت سے کچلنے کی پالیسی سے گریز کرے۔
ادھر اوچا کی ترجمان الیزابیتھ تھرسل نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ مظاہرین کے خلاف آتشیں ہتھیاروں کا استعمال نہ کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے فلسطینی مظاہرین پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی فوج پر حملے نہ کریں۔ انہوں نے اسرائیلی فوج کے لیے احترام بھرے الفاظ اور جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پر تعینات فورسز نفاذ قانون کی اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔
فلسطینی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ’اوچا‘ کی طرف سے جاری کردہ یہ بیان ادارے کی بزدانہ پالیسی اور حکمت عملی کا مظہر دکھائی دیتا ہے، جس میں اسرائیلی ریاست کے جرائم کی کھل کر مذمت کرنے کے بجائے قاتل صیہونی فوج کو احترام دینے کی بھونڈی کوشش کی جا رہی ہے۔
اوچا کی جانب سے فلسطینیوں کو تو یہ کہا گیا کہ وہ اسرائیلی فوج کے قریب نہ جائیں مگر اقوام متحدہ کا یہ دفتر اسرائیلی سیاسی اور فوجی لیڈروں کے ان بیانات کو بھی بھول گیا جن میں وہ فوج کو نہتے فلسطینیوں پر براہ راست گولیاں چلانے کی بھرپور ترغیب دے رہے ہیں۔
