رام اللہ ( فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی محکمہ امور اسیران کے چیئرمین عسیٰ قراقع نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی ریاست اور اس کے نام نہاد سیکیورٹی ادارے نہتے فلسطینی بچوں کو ہراساں کرنے، انہیں قید وبند میں ڈالنے اور انہیں انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والے 13 سالہ فلسطینی بچے عبدالرؤف البلعاوی کی رہائی کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی ریاست فلسطینی بچوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے لیے نام نہاد قوانین کا سہارا لے رہا ہے۔ پارلیمنٹ سے سیاہ اور ظالمانہ قوانین منظور کرائے جاتے ہیں اور ان قوانین کے پیچھے چھپ کر فلسطینی بچوں کے بنیادی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مسلسل چارماہ تک اسرائیلی ریاست کے زندانوں میں قید رہنے والے فلسطینی بچے البلعاوی کو رہائی پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ البلعاوی اکیلے صیہونی ریاست کے زندانوں میں پابند سلاسل نہیں رہے بلکہ صیہونی دشمن فلسطینیوں کی نئی نسل کو اذیتوں سے دوچار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی لڑکے عبدالرؤوف کو اسرائیلی فوج نے چار ماہ قبل حراست میں لیا۔ گرفتاری کے وقت اور اس کے بعد اسے مسلسل کئی بار وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ صیہونی تفتیش کاروں نے اس پر تشدد کے 12 مختلف اور اذیت ناک حربے استعمال کیے۔
گرفتاری کے وقت البلعاوی کی عمر 12 سال تھی۔ صیہونی جلادوں نے اسے کئی روز تک عقوبت خانے میں رکھا جہاں اس پر وحشیانہ تشدد کیا جاتا رہا۔
