مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی ریاست مقبوضہ بیت المقدس میں آباد فلسطینیوں کو نام نہاد حربوں اور مکروہ ہتھکنڈوں کے ذریعے وہاں سے بے دخل کرنے کی نسل پرستانہ پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ اس انتقامی پالیسی کا تازہ شکار ایک 35 سالہ فلسطینی خاتون بنی ہیں جو گذشتہ 16 سال سے بیت المقدس کی باشندہ اور قبلہ اوّل کی پڑوسی تھیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 35 سالہ مسز ابتسام عبید القدس کی ٹھنڈی ہوائوں سے مسجد اقصیٰ کی روحانی تجلیات سولہ سال تک مستفید رہیں۔ یہاں تک کہ نسل پرست اسرائیلی ریاست نے ابتسام عبید کو شہر سے بے دخل کرتے ہوئے انہیں قبلہ اوّل سے دور کردیا۔ابتسام شادی کے بعد بیت المقدس آئی تھیں۔ اب ان کے تین بچے ہیں۔ انہیں ان کے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد سمیت القدر بدر کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
مارچ میں ابتسام عبید کو اسرائیلی فوج دو بار حراست میں لے چکی۔ ایک بار ان کے شوہر اور 14 سالہ بیٹے نایف سمیت انہیں حراست میں لیا گیا۔ جب کہ دوسری بار انہیں ان کے شوہر کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ انہیں القدس میں غیرقانونی قیام کی پاداش میں حراست میں لیا۔
گذشتہ بدھ کو اسرائیلی فوج نے عیسویہ شہر میں شاہراہ صلاح الدین پر واقع ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں حراست میں لے لیا۔
ابتسام نے 16 سال قبل الدس کے ایک فلسطینی سے شادی کی اور وہ العیسوی منتقل ہوگئیں۔ القدس میں سولہ سالہ قیام کے دوران ان کے 3 بچے ہوئے۔ بڑے بیٹے نائف کی عمر 14، محمد کی 13 اور بچی امیرہ کی 10 سال ہے۔ انہیں نام نہاد سیکیورٹی وجوہات کی آڑ میں القدس سے بے دخل کیا گیا۔
