مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) لبنانی حکومت کے شدید احتجاج کے باوجود اسرائیلی حکومت نے لبنان کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے حالیہ ایام میں لبنان کی سرحد سے متصل علاقے راس الناقورہ میں دیوار کی تعمیر کا کام شروع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی ریاست کی دیوار کی تعمیر کا کام کئی سال تک جاری رہ سکتا ہے۔ یہ دیوار بحر متوسط سے شام کے وادی گولان میں جبل الشیخ ک تعمیر کی جائے گی۔منصوبے کے مطابق یہ دیوار 10 میٹر سطح زمین سے بلند اور مخصوص مقامات پر اس کی اونچائی 20 میٹر تک ہے۔ بالخصوص صیہونی کالونیوں کے قریب سے یہ دیوار زیادہ اونچی رکھی جائے گی۔
عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ کے مطابق دیوار کی تعمیر کا مقصد لبنان کو ٹوپو گرافی پر کنٹرول کی روک تھام، فائرنگیا مانیٹرنگ کے ذریعے سرحد کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
خیال رہے کہ لبنان کی سیاسی قیادت نے سرحد پر دیوار کی تعمیر اور سمندر میں موجود تیل کے وسائل پر قبضے کی اسرائیلی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے عالمی سطح پر چارہ جوئی پر زور دیا ہے۔
لبنانی صدر میشل عون، وزیراعظم سعد حریری اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے اپنے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ اسرائیلی دھمکیاں سرحدی خود مختاری اور امن واستحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے سرحد پر کنکریٹ کی دیوار تعمیر کرنے اور سمندر میں موجود تیل کے وسائل ہتھیانے کی کوششوں سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان تنازعات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2000ء کی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی زیرنگرانی سیزفائر لائن کی اپنی طرف دراندازی کی روک تھام کے لیے کنکریٹ کی دیوار تعمیر کرنے کی تیاری کررہا ہے۔
