لندن (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) برطانیہ میں قائم عرب وانسانی حقوق آرگنائزیشن نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی جانب سے غزہ کی پٹی کے عوام کے خلاف انتقامی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ محصورین غزہ کے خلاف مزید انتقامی اقدامات جنگی جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ یہ امر حیران کن ہے کہ صدر عباس اپنی ہی قوم کے ایک طبقے کو اجتماعی سزا دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ محمود عباس کا لہجہ انتقامی اور بیانات دھمکی آمیز ہیں۔ ان کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کے سارےÂ لوگوں کے خلاف انتقامی جذبا سے لبریز ہیں۔انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ محمود عباس کس نوعیت کی انتقامی کارروائیاں کرنے یا پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کررہے ہیں، تاہم تحریک فتح کے بعض رہنماؤں کے بیانات سے مترشح ہوتا ہے کہ صدر محمود عباس غزہ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مزید کمی کرنے، غزہ کی وزارتوں کے فنڈزمیں کٹوتی اور کئی دیگر انتقامی کارروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔
خیال ہے کہ حال ہی میں فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ پر الزام عائد کیا تھا کہ جماعت فلسطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ کے قافلے پر حملے میں ملوث ہے، جس کے بعد انہوں نے غزہ کی پٹی کے عوام کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا اعلان کیا تھا۔ حماس اور دیگر فلسطینی جماعتوں نے صدر محمود عباس کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر عباس ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غزہ کے عوام کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
