نیویارک (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں حال ہی میں ’یوم الارض‘ کے موقع پر اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کے وحشیانہ قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گذشتہ جمعہÂ کو غزہ کے فلسطینی علاقے میں اسرائیل مخالف مظاہروں پر اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے 17 مظاہرین شہید اور 1400 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔فلسطینیوں کے لیے 2014ء میں ہونے والی غزہ جنگ کے بعد سے یہ سب سے ہلاکت خیز دن تھا۔
پیر کو اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ جمعے کو فائرنگ میں مارے جانے والے 15 میں سے 10 فلسطینی "ثابت شدہ دہشت گرد” تھے جو مظاہروں کے دوران سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں بے گناہ شہریوں کا قتل عام انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں آتا ہے۔ عالمی برادری کو غزہ میں فلسطینی شہریوں کی ہونے والی ہلاکتوں کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرانا ہوں گی۔
انسانی حقوق گروپ نے اسرائیلی آرمی چیف جنرل گیڈی آئزن کوٹ کے اس بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے غزہ میں مظاہرین پرحملے سے قبل کہا تھا کہ وہ سرحد پر 100 ماہر نشانہ بازتعینات کریں گے جو ممکنہ فلسطینی مظاہرین کو روکنے کے لیے اپنے اختیارات اور تجربے کا استعمال کریں گے۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے بیشتر فلسطینی عام شہری تھے جن میں زیادہ بچے اور عورتیں تھیں۔
اس سے قبل اقوام متحدہ بھی غزہ میں مظاہرین کے قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرچکا ہے، مگر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ بعض مظاہرین نے غزہ اسرائیل سرحد پر نصب باڑ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی اور وہاں تعینات اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ اور گھریلو ساختہ فائر بم پھینکے تھے جس کے جواب میں فوجیوں نے فائرنگ کی۔
غزہ کی صورتِ حال پر ہفتے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا تھا۔ اجلاس میں تشدد کی تحقیقات اقوامِ متحدہ سے کرانے کی تجویز پر مشتمل قرارداد امریکا نے ویٹو کردی تھی۔
فلسطینیوں کی جانب سے حالیہ مظاہرے اسرائیل کے قیام کے 70 سال مکمل ہونے پر کیے جارہے ہیں۔
