فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ریاست صیہونیوں کو قبلہ اوّل کی بے حرمتی سے روکنے میں ناکام رہی ہے اور اب صیہونی آباد کار قبلہ اوّل میں جانور قربان کرنے کی ایک نئی رسم شروع کرنے کی اشتعال انگیز تیاری کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطین میں قائم اسرائیلی ریاست کی انتہا پسند صیہونی تنظیمیں مسجد اقصیٰ میں تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ایک قدم اور آگے بڑھ کر قبلہ اوّل میں ’ایسٹر کی قربانی‘ دینے کے مذموم اور اشتعال انگیز اقدام کی تیاری کررہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’ہیکل سلیمانی‘ کے پرچم تلے جمع صیہونی مذہبی گروپوں کے اتحاد نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں علاقائی اور عالمی حالات نے صیہونیوں کے لیے جبل المکبر (مسجد اقصیٰ) میں ایسٹر تہوار کے موقع پر جانوروں کی قربانی دینے کی راہ ہموار کردی ہے۔
مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیکل سلیمانی کی مسماری کے بعد اس جگہ پر جانوروں کی قربانی دینے کی بار بار کوشش کی گئی ہے مگر بہ وجوہ ایسا نہیں ہوسکا ہے۔
ماضی میں یہ گروپ خفیہ طورپر سرگرم رہا ہے مگر حالیہ ایام میں اس کے عناصر کھلے عام اپنے اجلاس منعقد کرتے اور قبلہ اوّل کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا پرچارک کرتے رہے ہیں۔ مسجد اقصیٰ پردھاوؤں میں بھی یہ گروپ پیش پیش ہے۔
