فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کوشنر نے گذشتہ ہفتے دو بار سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے صدی کی ڈیل کے موضوع پر بات چیت کی۔
ایک ہفتہ پیشتر جارڈ کوشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی مندوب جیسن گرین بیلٹ کی موجودگی میں ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب 20 ممالک کے مندوبین نے امریکا میں مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی کاکوئی مندوب موجود نہیں تھا۔
عبرانی اخبار کے مطابق وائیٹ ہاؤس کے ایک سینیر عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے مجوزہ امن منصوبے صدی کی ڈیل کے اعلان کا کوئی شیڈول جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدی کی ڈیل اسرائیل پر اثرات مرتب کرنے کے ساتھ غزہ اور غرب اردن کی سیکیورٹی صورت حال کو بھی تبدیل کردے گی۔
ممکنہ طور پر امریکا ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے نکل جائے جس کے رد عمل میں کئی عرب ممالک صدی کی ڈیل کی حمایت کرنے کے لیے آمادہ ہوسکتے ہیں۔
ہارٹس کے مطابق امریکی امن پلان میں بعض ایسی تجاویز بھی شامل ہیں جو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتیں۔ ان تجاویز میں ابو دیس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنا، غرب اردن میں صیہونی کالونیوں کے باہر آباد کاری روکنا جیسی تجاویز بھی شامل ہیں۔
امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی صدی کی ڈیل رواں سال کے وسط میں سامنے لائی جاسکتی ہے جو فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان پائے جانے والے تنازع کے حل کے حوالے سے آج تک کی ہمÂ ڈیل قرار دی جاسکتی ہے۔ تاہم فلسطینیوں کی طرف سے امریکا کے مجوزہ امن منصوبے کو قبول کرنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا۔
